ملفوظات (جلد 1) — Page 199
ان سے بیزاری ظاہر کرتے ہیں۔کیوں؟ صرف اس لئے کہ انگریزی اشیاء میں ایک خاص قسم کی نفاست اور عمدگی ہوتی ہے۔یہ لوگ چمڑے کو ایسا کماتے ہیں کہ اس میں نرمی اور چمک پیدا کر لیتے ہیں۔یہ کیا ہر ایک ادنیٰ سی چیز کو دیکھو ایک تاگے کو ہی دیکھو کیسا خوبصورت ہوتا ہے۔غرض ہر ایک دیسی چیز کو بالمقابل نکما کر دیا ہے بلکہ میں نے تو سنا ہے کہ بعض دیسی رئیس دیسی چیزوں سے یہاں تک متنفر ہیں کہ ان کے کپڑے بھی پیرس سے دھل کر آتے ہیں اور پینے کا پانی بھی ولایت سے منگواتے ہیں۔اس خریداری کا سِرّ کیا ہے۔انہوں نے ظاہری خوبصورتی اور چمک اور خوش نمائی رکھ دی ہے۔اس لئے لوگ ادھر جھک گئے ہیں۔جب یہ حالت ہے کہ دیانت دار اور بھی ہیں اور کفار کا گروہ بھی ہے لیکن کفار کی طرف رجوع ان کی نفاست اور چمک کی وجہ سے ہے۔یہی حال اخلاق اور اعمال کا ہے۔پس جب تک ان کی چمک دمک یہاں تک نہ پہنچائی جائے نوع انسان پر اثر نہیں پڑ سکتا۔جو لوگ خود کمزور ہوتے ہیں وہ دوسرے کمزوروں کو جذب نہیں کر سکتے۔قرآن کریم میں مخلوق کی قسم کھانے کی حقیقت خدا تعالیٰ فرماتا ہے وَالْعَصْرِ۔اِنَّ الْاِنْسَانَ لَفِيْ خُسْرٍ۔اِلَّا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ تَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَ تَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ (العصـر: ۲تا۴) قسم ہے اس زمانہ کی یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کی۔آجکل ہمارے زمانہ کے کوتاہ اندیش مخالف یہ اعتراض کرتے ہیں کہ قرآن شریف میں مخلوق کی قسمیں کیوں کھائی گئی ہیں حالانکہ دوسروں کو منع کیا ہے۔اور کہیں انجیر کی قسم ہے، کہیں دن اور رات کی اور کہیں زمین کی اور کہیں نفس کی؟ اس قسم کے اعتراضوں کا بہت برا اثر پڑتا ہے۔یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ تمام قرآن شریف میں یہ ایک عام سنت اور عادت الٰہی ہے کہ وہ بعض نظری امور کے اثبات و احقاق کے لئے کسی ایسے امور کا حوالہ دیتا ہے جو اپنے خواص کا عام طور پر بیّن اور کھلا کھلا اور بدیہی ثبوت رکھتے ہیں۔پس ان کی قسم کھانا ان کو بطور دلیل اور نظیر کے پیش کرنا ہوتا ہے۔ہم اس اعتراض کا واضح جواب دینے سے پیشتر