ملفوظات (جلد 1) — Page 189
ہوں کہ کوئی شخص حقیقی نیکی کرنے والا اور خدا تعالیٰ کی رضا کو پانے والا نہیں ٹھہر سکتا اور ان انعام و برکات اور معارف اور حقائق اور کشوف سے بہرہ ور نہیں ہوسکتا جو اعلیٰ درجہ کے تزکیۂ نفس پر ملتے ہیں جب تک کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع میں کھویا نہ جائے اور اس کا ثبوت خود خدا تعالیٰ کے کلام سے ملتا ہے قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِيْ يُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ (اٰل عـمران:۳۲) اور خدا تعالیٰ کے اس دعویٰ کی عملی اور زندہ دلیل مَیں ہوں۔ان نشانات کے ساتھ جو خدا تعالیٰ کے محبوبوں اور ولیوں کے قرآن شریف میں مقرر ہیں مجھے شناخت کرو۔غرض نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کا کمال یہاں تک ہے کہ اگر کوئی بڑھیا بھی آپؐ کا ہاتھ پکڑتی تھی تو آپؐ کھڑے ہوجاتے اور اس کی باتوں کو نہایت توجہ سے سنتے اور جب تک کہ وہ خود آپؐ کو نہ چھوڑتی آپؐ نہ چھوڑتے تھے۔مغضوب اور ضالّین کی راہوں سے بچنے کی ہدایت اور پھر غَيْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ وَ لَا الضَّآلِّيْنَ۔مٰلِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ کے بالمقابل ہے۔اس کا وِرد کرنے والا چشمہ مٰلِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ سے فیض پاتا ہے جس کا مطلب اور مفہوم یہ ہے کہ اے جزا و سزا کے دن کے مالک ہمیں اس سے بچا کہ یہودیوں کی طرح جو دنیا میں طاعون وغیرہ بلاؤں کا نشانہ ہوئے اور اس کے غضب سے ہلاک ہوگئے یا نصاریٰ کی طرح نجات کی راہ کھو بیٹھیں۔اس میں یہود کا نام مغضوب اس لئے رکھا گیا ہے کہ ان کی شامتِ اعمال سے دنیا میں بھی اُن پر عذاب آیا کیونکہ اُنہوں نے خدا تعالیٰ کے پاک نبیوں اور راستبازوں کی تکذیب کی اور بہت سی تکلیفیں پہنچائیں اور یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ خدا تعالیٰ نے جو یہاں سورۂ فاتحہ میں یہودیوں کی راہ سے بچنے کی ہدایت فرمائی اور اس سورہ کو الضَّآلِّيْنَ پر ختم کیا یعنی اُن کی راہ سے بھی بچنے کی ہدایت فرمائی تو اس میں کیا سِرّ تھا۔اس میں یہی راز تھا کہ اُمتِ محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی ایک قسم کا زمانہ آنے والا ہے جب کہ یہود کی تتبع کرنے والے ظاہر پرستی کریں گے اور استعارات کو حقیقت پر حمل کرکے خدا کے راستباز کی تکذیب کے لئے اُٹھیں گے جیسا کہ یہود نے مسیح ابن مریم کی تکذیب کی تھی اور انہیں یہی مصیبت پیش آئی کہ اُنہوں نے اس کی تاویل پر ٹھٹھا کیا