ملفوظات (جلد 1) — Page 177
تکمیل علمی کی طرف اشارہ فرمایا اور عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ سے تکمیل عملی کی طرف رہبری کی۔حکمت کے بھی دو ہی حصے ہیں۔ایک علم اکمل اور اتم ہو۔دُوسرے عمل اتم اور اکمل ہو۔وَ تَوَاصَوْا بِالْحَقِّ پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو لوگ خسر سے محفوظ رہتے ہیں۔اول وہ تکمیل علمی کرتے ہیں اور پھر عمل بھی گندے نہیں کرتے بلکہ علمی تکمیل کو عملی تکمیل تک پہنچاتے ہیں اور پھر یہ کہ جب انہیں کامل بصیرت حاصل ہوجاتی ہے اور ان کے کمال علم کا ثبوت کمالِ عمل سے ملتا ہے تو پھر وہ بخل نہیں کرتے بلکہ تَوَاصَوْا بِالْحَقِّ پر عمل کرتے ہیں۔لوگوں کو بھی اس حق کی دعوت کرتے ہیں جو انہوں نے پایا ہے۔اس کے یہ معنی بھی ہیں کہ اعمال کی روشنی سے بھی دکھاتے ہیں۔واعظ اگر خود عمل نہیں کرتا تو اس کی باتوں کا کچھ بھی اثر نہیں پڑسکتا۔یہ بھی قاعدہ کی بات ہے کہ اگر خود آدمی کہے اور کرے نہیں تو اس کا بہت بُرا اثر پڑتا ہے۔اگر زناکار زنا سے منع کرے تو اُس کی اس حالت کے ثابت ہوجانے پر سننے والوں کے دہریہ ہوجانے کا اندیشہ ہے کیونکہ وہ خیال کریں گے کہ اگر زنا کاری واقعی خطرناک چیز ہوتی اور خدا تعالیٰ کے حضور اس ناپاکی پر سزا ملتی ہے اور خدا واقعی ہوتا تو پھر یہ جو منع کرتا تھا خود کیوں اس سے پرہیز نہ کرتا۔مجھے معلوم ہے کہ ایک شخص ایک مولوی کی صحبت کے باعث مسلمان ہونے لگا۔ایک روز اُس نے دیکھا کہ وہی مولوی شراب پی رہا ہی تھا تو اس کا دل سخت ہوگیا اور وہ رُک گیا۔غرض تَوَاصَوْا بِالْحَقِّ میں یہ فرمایا کہ وہ اپنے اعمال کی روشنی سے دوسروں کو نصیحت کرتے ہیں۔وَ تَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ اور پھر ان کا یہ شیوہ ہوتا ہے۔تَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ یعنی صبر کے ساتھ وعظ و نصیحت کا شیوہ اختیار کرتے ہیں۔جلدی جھاگ مُنہ پر نہیں لاتے۔اگر کوئی مولوی اور پیش رَو ہوکر امام اور رہنما بن کر جلدی بھڑک اُٹھتا ہے اور اس میں برداشت اور صبر کی طاقت نہیں تو وہ لوگوں کو کیوں نقصان پہنچاتا ہے؟ دوسرے یہ بھی مطلب ہے کہ جو باتیں سننے والا صبر سے نہ سُنے وہ فائدہ نہیں اُٹھاتا۔ہمارے مخالف بُردباری کا دل لے کر نہیں آتے اور صبر سے اپنی مشکلات پیش نہیں کرتے بلکہ اُن کا تو یہ حال ہے کہ وہ کتاب تک تو دیکھنا نہیں چاہتے