ملفوظات (جلد 1) — Page 176
سے دیکھتے تھے اور اپنے ہاتھ سے لوٹا لے کر وضو کرانے کو ثواب اور فخر جانتے تھے اور بہت سے ایسے بھی تھے جو میری بیعت میں آنے کے لئے زور دیتے تھے لیکن جب خدا تعالیٰ کے نام اور اعلام سے یہ سلسلہ شروع ہوا تو وہی مخالفت کے لئے اُٹھے۔اس سے صاف پایا جاتا ہے کہ اُن کی ذاتی عداوت میرے ساتھ نہ تھی بلکہ عداوت اُن کو خدا تعالیٰ سے ہی تھی۔اگر خدا تعالیٰ کے ساتھ اُن کو سچا تعلق تھا تو اُن کی دینداری اور اتقا اور خداترسی کا تقاضا یہ ہونا چاہیے تھا کہ سب سے اول وہ میرے اس اعلان پر لبیک کہتے اور سجداتِ شکر کرتے ہوئے میرے ساتھ مصافحہ کرتے مگر نہیں۔وہ اپنے ہتھیاروں کو لے کر نِکل کھڑے ہوئے اور انہوں نے مخالفت کو یہاں تک پہنچایا کہ مجھے کافر کہا اور بے دین کہا۔دجال کہا۔افسوس! ان احمقوں کو یہ معلوم نہ ہوا کہ جو شخص خدا تعالیٰ سے قُلْ اِنِّیْ اُمِرْتُ وَاَنَا اَوَّلُ الْمُؤْمِنِیْنَ اور اَنْتَ مِنِّیْ بِـمَنْزِلَۃِ تَوْحِیْدِیْ وَتَفْرِیْدِیْ کی آوازیں سنتا ہو وہ اُن کی بدگوئی اور گالیوں کی کیا پروا کرسکتا ہے۔افسوس تو یہ ہے کہ ان نادانوں کو یہ بھی معلوم نہیں ہوا کہ کفر اور ایمان کا تعلق دنیا سے نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کے ساتھ ہے اور خدا تعالیٰ میرے مومن اور مامور ہونے کی تصدیق کرتا ہے۔پھر ان کی بیہودگیوں کی مجھے پروا کیا ہوسکتی ہے؟ غرض ان باتوں سے صاف پایا جاتا ہے کہ یہ لوگ میرے مخالف نہ تھے بلکہ خدا تعالیٰ کی باتوں کی انہوں نے مخالفت کی اور یہی وجہ ہے جس سے مامور من اللہ کے مخالفوں کا ایمان سلب ہوجاتا ہے۔اب یہ صاف بات ہے کہ میرے مخالف خدا تعالیٰ سے مخالفت کررہے ہیں۔میں اگر روشنی کی طرف آرہا ہوں اور یہ یقینی امر ہے کہ مَیں روشنی کی طرف آتا ہوں کیونکہ خدا تعالیٰ کے بے شمار نشان میری تائید میں ظاہر ہوچکے ہیں اور ہورہے ہیں۔بارش کی طرح یہ نشان آسمان سے اُتر رہے ہیں۔تو پھر یہ بھی یقینی امر ہے کہ میرے مخالف تاریکی کی طرف جاتے ہیں۔روشنی اور نور رُوح القدس کو لاتا ہے اور تاریکی شیطان کی قربت پیدا کرتی ہے اور اس طرح پر ولی کی مخالفت سَلْب ایمان کر دیتی ہے اور بِئْسَ الْقَرِیْن سے جا ملاتی ہے۔مدعا یہ ہے کہ اصلاح تب ہوتی ہے کہ تکمیلِ عملی کے مراتب حاصل ہوجائیں۔پس سورۃ العصر میں جو اِلَّا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فرمایا ہے اس میں اٰمَنُوْا سے