ملفوظات (جلد 1) — Page 174
يُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ (اٰل عـمران:۳۲) اسی طرح پر اگر تم میری پیروی کرو گے تو اپنے اندر کے بتوں کو توڑ ڈالنے کے قابل ہو جاؤ گے اور اس طرح پر سینہ کو جو طرح طرح کے بتوں سے بھرا پڑا ہے پاک کرنے کے لائق ہو جاؤ گے۔تزکیۂ نفس کے لئے چلّہ کشیوں کی ضرورت نہیں ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہؓ نے چلّہ کشیاں نہیں کی تھیں۔ارّہ اور نفی واثبات وغیرہ کے ذکر نہیں کئے تھے بلکہ اُن کے پاس ایک اَور ہی چیز تھی۔وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت میں محو تھے جو نور آپؐ میں تھا وہ اس اطاعت کی نالی میں سے ہوکر صحابہؓ کے قلب پر گرتا تھا اور ماسوی اللہ کے خیالات کو پاش پاش کرتا جاتا تھا۔تاریکی کی بجائے اُن سینوں میں نور بھرا جاتا تھا۔اس وقت بھی خوب یاد رکھو وہی حالت ہے۔جب تک کہ وہ نور جو خدا کی نالی میں سے آتا ہے تمہارے قلب پر نہیں گرتا تزکیہ نفس نہیں ہوسکتا۔انسان کا سینہ مہبط الانوار ہے اور اسی وجہ سے وہ بیت اللہ کہلاتا ہے۔بڑا کام یہی ہے کہ اس میں جو بت ہیں وہ توڑے جائیں اور اللہ ہی اللہ رہ جائے۔حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اَللّٰہُ اَللّٰہُ فِیْ اَصْـحَابِیْ میرے صحابہؓ کے دلوں میں اللہ ہی اللہ ہے۔دل میں اللہ ہی اللہ ہونے سے یہ مُراد نہیں کہ انسان وحدتِ وجود کے مسئلہ پر عمل کرے اور ہر کتے اور گدھے کو معاذ اللہ خدا قرار دے بیٹھے۔نہیں نہیں۔اس سے اصل غرض یہ ہے کہ انسان کا جو کام ہو اس میں مقصود فی الذّات اللہ تعالیٰ ہی کی رضا ہو اور نہ کچھ اَور۔اور یہ درجہ حاصل نہیں ہوسکتا جب تک خدا تعالیٰ کا فضل شاملِ حال نہ ہو۔بر کریماں کار ہا دُشوار نیست ۲۰؎ # قرآن کریم میں عِلمی اور عملی تکمیل کی ہدایت ہے پھر یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ قرآن کریم میں علمی اور عملی تکمیل کی ہدایت ہے چنانچہ اِهْدِنَا الصِّرَاطَ (الفاتـحۃ :۶) میں تکمیل علمی کی طرف اشارہ ہے اور تکمیل عملی کا بیان صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ (الفاتـحۃ :۷) میں فرمایا کہ جو نتائج اکمل اور اَتَم ہیں وہ حاصل