ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 168 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 168

تَاْكُلُ الْاَنْعَامُ (مـحمّد:۱۳) مگر دیکھو اگر ایک بیل چارہ تو کھالے لیکن ہل چلانے کے وقت بیٹھ جائے اس کا نتیجہ کیا ہوگا؟ یہی ہوگا کہ زمیندار اسے بوچڑ خانے میں جاکر بیچ دے گا۔اسی طرح ان لوگوں کی نسبت (جو خدا تعالیٰ کے احکام کی پیروی یا پروا نہیں کرتے اور اپنی زندگی فسق وفجور میں گزارتے ہیں) فرماتا ہے قُلْ مَا يَعْبَؤُا بِكُمْ رَبِّيْ لَوْ لَا دُعَآؤُ كُمْ (الفرقان:۷۸) یعنی میرا رب تمہاری کیا پروا کرتا ہے اگر تم اُس کی عبادت نہ کرو۔یہ امر بحضور دل یاد رکھنا چاہیے کہ خدا تعالیٰ کی عبادت کے لئے محبت کی ضرورت ہے اور محبت دو قسم کی ہوتی ہے۔ایک محبت تو ذاتی ہوتی ہے اور ایک اغراض سے وابستہ ہوتی ہے یعنی اس کا باعث صرف چند عارضی باتیں ہوتی ہیں جن کے دور ہوتے ہی وہ محبت سرد ہوکر رنج اور غم کا باعث ہوجاتی ہے مگر ذاتی محبت سچی راحت پیدا کرتی ہے۔چونکہ انسان فطرتاً خداہی کے لئے پیدا ہوا ہے جیسا کہ فرمایا مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَ الْاِنْسَ اِلَّا لِيَعْبُدُوْنِ (الذَّاریات:۵۷) اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس کی فطرت ہی میں اپنے لئے کچھ نہ کچھ رکھا ہوا ہے اور مخفی در مخفی اسباب سے اُسے اپنے لئے بنایا ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے تمہاری پیدائش کی اصلی غرض یہ رکھی ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو مگر جو لوگ اپنی اس اصلی اور فطری غرض کو چھوڑ کر حیوانوں کی طرح زندگی بسر کرتے ہیں اور ان کی زندگی کی غرض صرف کھانا پینا اور سو رہنا ہو جاتی ہے وہ خدا تعالیٰ کے فضل سے دُور جا پڑتے ہیں اور خدا تعالیٰ کی ذمہ داری اُن کے لئے نہیں رہتی۔وہ زندگی جو ذمہ داری کی ہے یہی ہے کہ مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَ الْاِنْسَ اِلَّا لِيَعْبُدُوْنِ پرایمان لا کر زندگی کا پہلو بدل لے۔موت کا اعتبار نہیں ہے۔سعدیؒ کا شعر سچا ہے۔مکُن تکیہ بر عمرِ ناپائدار مباش ایمن از بازیٔ روز گار # عُمرِ ناپائدار پربھروسہ کرنا دانش مند کا کام نہیں ہے۔موت یونہی آکر لتاڑ جاتی ہے اور انسان کو پتا بھی نہیں لگتا جب کہ انسان اس طرح پر موت کے پنجہ میں گرفتار ہے۔پھر اُس کی زندگی کا خدا تعالیٰ کے سوا کون ذمہ دار ہوسکتا ہے؟ خدا کے لیے زندگی اگر زندگی خدا کے لئے ہو تو وہ اس کی حفاظت کرے گا۔بخاری میں ایک حدیث ہے کہ جو شخص خدا تعالیٰ سے محبت کا رابطہ پیدا کرلیتا ہے خدا تعالیٰ