ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 167 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 167

بداعمالی کی کجی نہ رہے پھر راضی ہوں گا۔آپ بھی سیدھا ہوجا اور دُوسروں کو بھی کر۔عرب کے لئے سیدھا کرنا کس قدر مشکل تھا۔۱۸؎ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کے پوچھنے پر فرمایا کہ مجھے سورۂ ھود نے بوڑھا کردیا کیونکہ اس حکم کی رُو سے بڑی بھاری ذمہ داری میرے سُپرد ہوئی ہے۔اپنے آپ کو سیدھا کرنا اور اللہ تعالیٰ کے احکام کی پوری فرمانبرداری جہاں تک انسان کی اپنی ذات سے تعلق رکھتی ہے ممکن ہے کہ وہ اس کو پورا کرے لیکن دوسروں کو ویسا ہی بنانا آسان نہیں ہے۔اس سے ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بلند شان اور قوت قدسی کا پتہ لگتا ہے چنانچہ آپؐ نے اس حکم کی کیسی تعمیل کی۔صحابہ کرامؓ کی وہ پاک جماعت طیار کی کہ اُن کو كُنْتُمْ خَيْرَ اُمَّةٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ (اٰل عـمران:۱۱۱) کہا گیا اور رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ (البینۃ:۹) کی آواز اُن کو آگئی۔آپؐ کی زندگی میں کوئی بھی منافق مدینہ طیبہ میں نہ رہا۔غرض ایسی کامیابی آپ کو ہوئی کہ اس کی نظیر کسی دوسرے نبی کے واقعاتِ زندگی میں نہیں ملتی۔اس سے اللہ تعالیٰ کی غرض یہ تھی کہ قیل و قال ہی تک بات نہ رکھنی چاہیے کیونکہ اگر نِرے قیل و قال اور رِیا کاری تک ہی بات ہو تو دوسرے لوگوں اور ہم میں پھر امتیاز کیا ہوگا اور دوسروں پر کیا شرف؟ تم صرف اپنا عملی نمونہ دکھاؤ اور اس میں ایسی چمک ہوکہ دُوسرے اس کو قبول کرلیں کیونکہ جب تک اس میں چمک نہ ہو کوئی اس کو قبول نہیں کرتا۔کیا کوئی انسان میلی کچیلی چیز پسند کرسکتا ہے؟ جب تک کپڑے میں ایک داغ بھی ہو وہ اچھا نہیں لگتا۔اسی طرح جب تک تمہاری اندرونی حالت میں صفائی اور چمک نہ ہوگی کوئی خریدار نہیں ہوسکتا۔ہر شخص عمدہ چیز کو پسند کرتا ہے اسی طرح جب تک تمہارے اخلاق اعلیٰ درجہ کے نہ ہوں کسی مقام تک نہیں پہنچ سکوگے۔انسانی پیدائش کی اصل غرض سورۃ العصر میں اللہ تعالیٰ نے کفار اور مومنوں کی زندگی کے نمونے بتائے ہیں کفار کی زندگی بالکل چوپایوں کی سی زندگی ہوتی ہے۔جن کو کھانے اور پینے اور شہوانی جذبات کے سوا اور کوئی کام نہیں ہوتا يَاْكُلُوْنَ كَمَا