ملفوظات (جلد 1) — Page 166
متّقیوں کے ساتھ ہے اور صرف تقویٰ محبت الٰہی کو جذب نہیں کرتا وَالَّذِيْنَ هُمْ مُّحْسِنُوْنَ بھی ہوں۔مُتّقی اور مُحسن مُتّقی کے معنی ہیں ڈرنے والا۔ایک ترکِ شر ہوتا ہے اور ایک اِفاضۂ خیر۔متّقی ترک شر کا مفہوم اپنے اندر رکھتا ہے اور محسن افاضۂ خیر کو چاہتا ہے۔مَیں نے اس کے متعلق ایک حکایت پڑھی ہے کہ ایک بزرگ نے کسی کی دعوت کی اور اپنی طرف سے مہمان نوازی کا پورا اہتمام کیا اور حق ادا کیا۔جب وہ کھانا کھا چکے تو بزرگ نے بڑے انکسار سے کہا کہ مَیں آپ کے لائق خدمت نہیں کرسکا۔مہمان نے کہا کہ آپ نے مجھ پر کوئی احسان نہیں کیا بلکہ مَیں نے احسان کیا ہے کیونکہ جس وقت تم مصروف تھے میں نے تمہارے مکان کو آگ نہیں لگادی اگر میں تمہاری املاک کو آگ لگا دیتا تو کیا ہوتا۔غرض متّقی کا کام یہ ہے کہ برائیوں سے باز آوے۔اس سے آگے دوسرا درجہ افاضۂ خیر کا ہے جس کو یہاں مُـحْسِنُوْنَ کے لفظ سے ادا کیا گیا ہے کہ نیکیاں بھی کرے۔پورا راستباز انسان تب ہوتا ہے جب بدیوں سے پرہیز کرکے یہ مطالعہ کرے کہ نیکی کون سی کی ہے؟ کہتے ہیں کہ امام حسین رضی اللہ عنہ کے پاس ایک نوکر چاء کی پیالی لایا۔جب قریب آیا تو غفلت سے وہ پیالی آپؓ کے سر پر گر پڑی۔آپؓ نے تکلیف محسوس کرکے ذرا تیز نظر سے غلام کی طرف دیکھا۔غلام نے آہستہ سے پڑھا اَلْكٰظِمِيْنَ الْغَيْظَ (اٰل عمران :۱۳۵) یہ سُن کر امام حسین رضی اللہ عنہ نے فرمایا کَظَمْتُ غلام نے پھر کہا وَ الْعَافِيْنَ عَنِ النَّاسِ۔کَـــظْم میں انسان غصہ دبا لیتا ہے اور اظہار نہیں کرتا ہے مگر اندر سے پوری رضامندی نہیں ہوتی اس لئے عفو کی شرط لگادی ہے۔آپؓ نے کہا کہ مَیں نے عفو کیا۔پھر پڑھا وَ اللّٰهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِيْنَ۔محبوب الٰہی وہی ہوتے ہیں جو کَظْم اور عفو کے بعد نیکی بھی کرتے ہیں۔آپؓ نے فرمایا جا آزاد بھی کیا۔راستبازوں کے نمونے ایسے ہیں کہ چاء کی پیالی گرا کر آزاد ہوا۔اب بتاؤ کہ یہ نمونہ اصول کی عمدگی ہی سے پیدا ہوا۔آنحضرت صلی اللہ وسلم کی قوتِ قُدسی اللہ تعالیٰ نے فرمایا فَاسْتَقِمْ كَمَاۤ اُمِرْتَ (ھود: ۱۱۳) یعنی سیدھا ہوجا کسی قسم کی