ملفوظات (جلد 1) — Page 152
سے سیکھا ہے۔اگر انسان نہایت پُر غور نگاہ سے دیکھے تو اسے معلوم ہوگا کہ جانور کھلے طور پر خُلق رکھتے ہیں۔میرے مذہب میں سب چرند و پرند ایک خلق ہیں اور انسان اس کے مجموعہ کا نام ہے۔یہ نفس جامع ہے اور اسی لیے عالم صغیر کہلاتا ہے کہ کُل مخلوقات کے کمال انسان میں یکجائی طور پر جمع ہیں اور کُل انسانوں کے کمالات بہ ہیئت مجموعی ہمارے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں جمع ہیں اور اسی لیے آپ کُل دنیا کے لیے مبعوث ہوئے اور رحمۃللعالمین کہلائے۔اِنَّكَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِيْمٍ (القلم:۵) میں بھی اسی مجموعہ کمالات انسانی کی طرف اشارہ ہے۔اسی صورت میں عظمتِ اخلاق محمدیؐ کی نسبت غور کر سکتا ہے اور یہی وجہ تھی کہ آپ پر نبوت کاملہ کے کمالات ختم ہوئے۔یہ ایک مسلّم بات ہے کہ کسی چیز کا خاتمہ اس کی علتِ غائی کے اختتام پر ہوتا ہے۔جیسے کتاب کے جب کُل مطالب بیان ہوجاتے ہیں تو اس کا خاتمہ ہوجاتا ہے۔اسی طرح پر رسالت اور نبوت کی علّت غائی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم ہوئی۔اور یہی ختمِ نبوت کے معنے ہیں کیونکہ یہ ایک سلسلہ ہے جو چلا آیا ہے اور کامل انسان پر آکر اس کا خاتمہ ہوگیا۔استقامت ہی انسان کا اسمِ اعظم ہے میں یہ بھی بتلا دینا چاہتا ہوں کہ استقامت جس پر مَیں نے ذکر چھیڑا تھا وہی ہے جس کو صوفی لوگ اپنی اصطلاح میں فنا کہتے ہیں اور اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْمَ کے معنے بھی فنا ہی کے کرتے ہیں۔یعنی رُوح، جوش اور ارادے سب کے سب اللہ تعالیٰ کے لیے ہی ہو جائیں اور اپنے جذبات اور نفسانی خواہشیں بالکل مَرجائیں۔بعض انسان جو اللہ تعالیٰ کی خواہش اور ارادے کو اپنے ارادوں اور جوشوں پر مقدم نہیں کرتے وہ اکثر دفعہ دنیا ہی کے جوشوں اور ارادوں کی ناکامیوں میں اس دنیا سے اُٹھ جاتے ہیں۔ہمارے بھائی صاحب مرحوم مرزا غلام قادر کو مقدمات میں بڑی مصروفیت رہتی تھی اور ان میں وہ یہاں تک منہمک اور محو رہتے تھے کہ آخر ان ناکامیوں نے ان کی صحت پر اثر ڈالا اور وہ انتقال کر گئے۔اَور بھی بہت سے لوگ دیکھے ہیں جو اپنے ارادوں کو خدا پر مقدم کر تے ہیں۔آخر کار اس تقدیم ہوائے نفس میں بھی وہ کامیاب نہیں ہوتے اور بجائے فائدہ کے نقصانِ عظیم