ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 8 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 8

اس لفظ سے ایسا رنج ہوتا ہے جیسا کہ کسی نے گالی دے دی۔فرمایا۔لوگ تمہیں دکھ دیں گے اور ہر طرح سے تکلیف پہنچائیں گے مگر ہماری جماعت کے لوگ جوش نہ دکھائیں۔جوشِ نفس سے دل دُکھانے والے الفاظ استعمال نہ کرو۔اللہ تعالیٰ کو ایسے لوگ پسند نہیں ہوتے۔ہماری جماعت کو اللہ تعالیٰ ایک نمونہ بنانا چاہتا ہے۔۵؎ فرمایا۔یہ آسمانی کام ہے اور آسمانی کام رک نہیں سکتا۔اس معاملہ میں ہمارا قدم ایک ذرہ بھی درمیان میں نہیں۔فرمایا۔لوگوں کی گالیوں سے ہمارا نفس جوش میں نہیں آتا۔فرمایا۔دولت مندوں میں نخوت ہے مگر آج کل کے علماء میں اس سے بڑھ کر ہے۔ان کا تکبّر ایک دیوار کی طرح ان کی راہ میں رکاوٹ ہے۔میں اس دیوار کو توڑنا چاہتا ہوں۔جب یہ دیوار ٹوٹ جائے گی تو وہ انکسار کے ساتھ آویں گے۔فرمایا۔اللہ تعالیٰ متقی کو پیار کرتا ہے۔خدا تعالیٰ کی عظمت کو یاد کر کے سب ترساں رہو اور یاد رکھو کہ سب اللہ کے بندے ہیں۔کسی پر ظلم نہ کرو۔نہ تیزی کرو۔نہ کسی کو حقارت سے دیکھو۔جماعت میں اگر ایک آدمی گندہ ہوتا ہے تو وہ سب کو گندہ کر دیتا ہے۔اگر حرارت کی طرف تمہاری طبیعت کا میلان ہو تو پھر اپنے دل کو ٹٹولو کہ یہ حرارت کس چشمہ سے نکلی ہے۔یہ مقام بہت نازک ہے۔۶؎ دسمبر ۱۸۹۷ء دارالامان قادیان سے بذریعہ پوسٹ کارڈ اطلاع ملی ہے کہ ہماری جماعت ہر نماز کی آخری رکعت میں بعد رکوع مندرجہ ذیل دعا بکثرت پڑھیں رَبَّنَاۤ اٰتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَّ فِي الْاٰخِرَةِ حَسَنَةً وَّ قِنَا عَذَابَ النَّارِِ۔(البقرۃ:۲۰۲) ۷؎