ملفوظات (جلد 1) — Page 151
اور غلام ہو کر عمر ضائع کر دیتا ہے۔میں نے دیکھا ہے کہ ہندوؤں کو بھی احساسِ موت ہوا ہے۔بٹالہ میں کشن چند نام ایک بھنڈاری ستّر یا بہتّر برس کی عمر کا تھا۔اس وقت اس نے گھر بار سب کچھ چھوڑ دیا اور کانشی میں جاکر رہنے لگا اور وہاں ہی مر گیا۔یہ صرف اس لیے کہ وہاں مرنے سے اس کی موکش ہوگی مگر یہ خیال اس کا باطل تھا لیکن اس سے اتنا تو مفید نتیجہ ہم نکال سکتے ہیں کہ اس نے احساسِ موت کیا اور احساسِ موت انسان کو دنیا کی لذّات میں بالکل منہمک ہونے سے اور خدا سے دور جا پڑنے سے بچا لیتا ہے۔یہ بات کہ کانشی میں مرنا مکتی کا باعث ہوگا یہ اسی مخلوق پرستی کا پردہ تھا جو اس کے دل پر پڑا ہوا تھا مگر مجھے تو سنحت افسوس ہوتا ہے جبکہ میں دیکھتا ہوں کہ مسلمان ہندوؤں کی طرح بھی احساسِ موت نہیں کرتے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کودیکھو صرف اس ایک حکم نے کہ فَاسْتَقِمْ کَمَا اُمِرْتَ نے ہی بوڑھا کر دیا۔کس قدر احساسِ موت ہے۔آپ کی یہ حالت کیوں ہوئی صرف اس لئے کہ تاہم اس سے سبق لیں۔ورنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک اور مقدس زندگی کی اس سے بڑھ کر اَور کیا دلیل ہو سکتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ہادی کامل اور پھر قیامت تک کے لیے اور اس پر کُل دنیا کے لیے مقرر فرمایا مگر آپ کی زندگی کے کُل واقعات ایک عملی تعلیمات کا مجموعہ ہیں جس طرح پر قرآن کریم اللہ تعالیٰ کی قولی کتاب ہے اور قانونِ قدرت اس کی فعلی کتاب ہے اسی طرح پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی بھی ایک فعلی کتاب ہے جو گویا قرآن کریم کی شرح اور تفسیر ہے۔میرے تیس سال کی عمر میں ہی سفید بال نکل آئے تھے اور مرزا صاحب مرحوم میرے والد ابھی زندہ ہی تھے۔سفید بال بھی گویا ایک قسم کا نشانِ موت ہوتا ہے۔جب بڑھاپا آتا ہے جس کی نشانی یہی سفید بال ہیں تو انسان سمجھ لیتا ہے کہ مرنے کے دن اب قریب ہیں مگر افسوس تو یہ ہے کہ اس وقت بھی انسان کو فکر نہیں لگتا۔مومن تو ایک چڑیا اور جانوروں سے بھی اخلاق فاضلہ سیکھ سکتا ہے کیونکہ خدائے تعالیٰ کی کھلی ہوئی کتاب اس کے سامنے ہوتی ہے۔دنیا میں جس قدر چیزیں اللہ تعالیٰ نے پیدا کی ہیں وہ انسان کے لیے جسمانی اور روحانی دونوں قسم کی راحتوں کے سامان ہیں۔میں نے حضرت جنید رحمۃ اللہ علیہ کے تذکرے میں پڑھا ہے کہ آپ فرمایا کرتے تھے۔میں نے مراقبہ بلّی