ملفوظات (جلد 1) — Page 149
مَیں پھر تمہیں بتلاتا ہوں کہ اگر خدا تعالیٰ سے سچا تعلق، حقیقی ارتباط قائم کرنا چاہتے ہو تو نماز پر کاربند ہو جاؤ اور ایسے کاربند بنو کہ تمہارا جسم نہ تمہاری زبان بلکہ تمہاری رُوح، تمہاری روح کے ارادے اور جذبے سب کے سب ہمہ تن نماز ہو جائیں۔۱۵؎ عصمتِ انبیاء کا یہی راز ہے یعنی نبی کیوں معصوم ہوتے ہیں؟ تو اس کا یہی جواب ہے کہ وہ استغراقِ محبت الٰہی کے باعث معصوم ہوتے ہیں۔مجھے حیرت ہوتی ہے جب ان قوموں کو دیکھتا ہوں جو شرک میں مبتلا ہیں جیسے ہندو جو قسم قسم کے اصنام کی پرستش کرتے ہیں یہاں تک کہ انہوں نے عورت اور مرد کے اعضاء مخصوصہ تک کی پرستش بھی جائز کر رکھی ہے اور ایسا ہی وہ لوگ جو ایک انسانی لاش یعنی یسوع مسیح کی پرستش کرتے ہیں۔اس قسم کے لوگ مختلف صورتوں سے حصولِ نجات یا مکتی کے قائل ہیں مثلاً اول الذکر یعنی ہندو گنگا اِشنان اور تیرتھ یاترا اور ایسے ایسے کفاروں سے گناہ سے موکش چاہتے ہیں اور عیسیٰ پرست عیسائی مسیح کے خون کو اپنے گناہوں کا فدیہ قرار دیتے ہیں مگر میں کہتا ہوں کہ جب تک نفسِ گناہ موجود ہے وہ بیرونی صفائی اور خارجی معتقدات سے راحت یا اطمینان کا ذریعہ کیوں کر پاسکتے ہیں جب تک اندر کی صفائی اور باطنی تطہیر نہیں ہوتی ناممکن ہے کہ انسان سچی پاکیزگی اور طہارت جو انسان کو نجات سے ملتی ہے پا سکے۔ہاں اس سے ایک سبق لو جس طرح پر دیکھو بدن کی میل اور بدبو بِدوں صفائی کے دور نہیں ہو سکتی اور جسم کو اُن آنے والے خطرناک امراض سے بچا نہیں سکتی اسی طرح پر روحانی کدورات اور میل جو دل پر ناپاکیوں اور قسم قسم کی بے باکیوں سے جم جاتی ہے دور نہیں ہو سکتی جب تک توبہ کا مصفا اور پاک پانی نہ دھو ڈالے۔جسمانی سلسلہ میں ایک فلسفہ جس طرح پر موجود ہے اس طرح پر روحانی سلسلہ میں ایک فلسفہ رکھا ہوا ہے۔مبارک ہیں وہ لوگ جو اس پر غور کرتے ہیں اور سوچتے ہیں۔گناہ کی حقیقت اور اس سے بچنے کے ذرائع میں اس مقام پر یہ بات بھی جتلانا چاہتا ہوں کہ گناہ کیوں کر پیدا ہوتا ہے؟ اس