ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 144 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 144

کس قدر گردن جھکاتا ہے اور سجدہ کمالِ ادب اور کمالِ تذلل اور نیستی کو جو عبادت کا مقصود ہے ظاہر کرتا ہے۔یہ آداب اور طُرق ہیں جو خدا تعالیٰ نے بطور یادداشت کے مقرر کردیئے ہیں اور جسم کو باطنی طریق سے حصہ دینے کی خاطر ان کو مقرر کیا ہے۔علاوہ ازیں باطنی طریق کے اثبات کی خاطر ایک ظاہری طریق بھی رکھ دیا ہے۔اب اگر ظاہری طریق میں (جو اندرونی اور باطنی طریق کا ایک عکس ہے) صرف نقال کی طرح نقلیں اتاری جاویں اور اسے ایک بارِگراں سمجھ کر اُتار پھینکنے کی کوشش کی جاوے تو تم ہی بتلاؤ اس میں کیا لذّت اور حظّ آسکتا ہے؟ اور جب تک لذت اور سُرور نہ آئے اُس کی حقیقت کیونکر متحقق ہوگی اور یہ اُس وقت ہوگا جب کہ روح بھی ہمہ نیستی اور تذلّل تام ہوکر آستانہءِ اُلُوہیت پر گرے اور جو زبان بولتی ہے رُوح بھی بولے۔اُس وقت ایک سُرور اور نور اور تسکین حاصل ہوجاتی ہے۔مَیں اس کو اور کھول کر لکھنا چاہتا ہوں کہ انسان جس قدر مراتب طے کرکے انسان ہوتا ہے۔یعنی کہاں نطفہ بلکہ اس سے بھی پہلے نطفہ کے اجزاء یعنی مختلف قسم کی اغذیہ اور اُن کی ساخت اور بناوٹ۔پھر نُطفہ کے بعد مختلف مدارج کے بعد بچہ پھر جوان، بُوڑھا۔غرض ان تمام عالموں میں جو اُس پر مختلف اوقات میں گزرے ہیں اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کا معترف ہو اور وہ نقشہ ہر آن اس کے ذہن میں کھنچا رہے تو بھی وہ اس قابل ہوسکتا ہے کہ ربوبیت کے مدِّ مقابل میں اپنی عبودیت کو ڈال دے۔غرض مدعا یہ ہے کہ نماز میں لذت اور سُرور بھی عبودیت اور ربوبیت کے ایک تعلق سے پیدا ہوتا ہے۔جب تک اپنے آپ کو عدمِ محض یا مشابہ بالعدم قرار دے کر جو ربوبیت کا ذاتی تقاضا ہے نہ ڈال دے اُس کا فیضان اور پَرتو اس پر نہیں پڑتا اور اگر ایسا ہو تو پھر اعلیٰ درجہ کی لذت حاصل ہوتی ہے۔جس سے بڑھ کر کوئی حظ نہیں ہے۔سچی نماز اس مقام پر انسان کی روح جب ہمہ نیستی ہوجاتی ہے تو وہ خدا کی طرف ایک چشمہ کی طرح بہتی ہے اور ماسوی اللہ سے اُسے انقطاعِ تام ہوجاتا ہے۔اس وقت خدائے تعالیٰ کی محبت اس پر گرتی ہے۔اس اتصال کے وقت ان دو جوشوں سے جو اُوپر کی طرف سے ربوبیت کا جوش اور نیچے کی طرف سے عبودیت کا جوش ہوتا ہے ایک خاص کیفیت پیدا ہوتی ہے اس کا نام