ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 7 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 7

آسکتے مگر جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا نام لیا جاوے تو ہزاروں گالیاں سناتے ہیں۔اسلام دوسری اقوام پر محسن ہے کہ ہر ایک نبی اور کتاب کو بری کیا اور خود اسلام مظلوم ہے۔اسلام کا مضمون لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کسی دوسرے مذہب میں نہیں ہے۔۳؎ ۱۸۹۶ء فرمایا۔حضرت مسیحؑ کی آمد کے واسطے جو لفظ آیا ہے وہ نزول ہے اور رجوع نہیں ہے۔اول تو واپس آنے والے کی نسبت جو لفظ آتا ہے وہ رجوع ہے اور رجوع کا لفظ حضرت عیسیٰ ؑ کی نسبت کہیں نہیں بولا گیا۔دوم نزول کے معنی آسمان سے آنے کے نہیں ہیں۔نزیل مسافر کو کہتے ہیں۔مخالفین کے لئے دعا سے کام لینا چاہیے فرمایا۔ہم نے جو مخالفین پر بعض جگہ سختی کی ہے وہ ان کے تکبر کو دور کرنے کے واسطے ہے۔وہ سخت باتوں کا جواب نہیں بلکہ علاج کے طور پر کڑوی دوائی ہے اَلْحَقُّ مُرٌّ۔لیکن ہر شخص کے واسطے جائز نہیں کہ وہ ایسی تحریر کو استعمال کرے۔جماعت کو احتیاط چاہیے۔ہر ایک شخص اپنے دل کو پہلے ٹٹول کر دیکھ لے کہ صرف ضد اور دشمنی کے طور پر ایسے لفظ لکھ رہا ہے یا کسی نیک نیت پر یہ کام مبنی ہے۔فرمایا۔مخالفین کے ساتھ دشمنی سے پیش نہیں آنا چاہیے بلکہ زیادہ تر دعا سے کام لینا چاہیے اور دیگر وسائل سے کوشش کرنی چاہیے۔۴؎ ۱۸۹۷ء حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا۔میں ہر گز اپنے آپ کو مولوی نہیں کہتا اور نہ میں راضی ہوں کہ کبھی کوئی مجھے مولوی کہے بلکہ مجھے تو