ملفوظات (جلد 1) — Page 6
انسان منافقانہ طرز نہ رکھے (انسان کو لازم ہے) منافقانہ طرز نہ رکھے مثلاً اگر ایک ہندو (خواہ حاکم یا عہدہ دار ہو) کہے کہ رام اور رحیم ایک ہے تو ایسے موقع پر ہاں میں ہاں نہ ملائے۔اللہ تعالیٰ تہذیب سے منع نہیں کرتا۔مہذبانہ جواب دیوے۔حکمت کے یہ معنی نہیں ہیں کہ ایسی گفتگو کی جاوے جس سے خواہ نخواہ جوش پیدا ہو اور بیہودہ جنگ ہو۔کبھی اخفائے حق نہ کرے۔ہاں میں ہاں ملانے سے انسان کافر ہو جاتا ہے۔یار غالب شو کہ تا غالب شوی # اللہ تعالیٰ کا لحاظ اور پاس رکھنا چاہیے۔ہمارے دین میں کوئی بات تہذیب کے خلاف نہیں۔اسلام اسلام ہمیشہ مظلوم چلا آیا ہے۔جیسے کبھی دو بھائیوں میں فساد ہو تو بڑا بھائی بہ سبب اپنی عظمت اور پہلے پیدا ہونے کے اپنے چھوٹے بھائی پر خواہ نخواہ ظلم کرتا ہے اس لیے کہ وہ پیدائش میں اول ہونے سے اپنا حق زیادہ خیال کرتا ہے حالانکہ حق دونوں کا برابر ہے۔اسی طرح کا ظلم اسلام پر ہو رہا ہے۔اسلام سب مذاہب کے بعد آیا۔اسلام نے سب مذاہب کی غلطی ان کو بتلائی تو جیسے قاعدہ ہے کہ جاہل، خیر خواہ کا دشمن ہو جاتا ہے اسی طرح وہ سب مذاہب اس سے ناراض ہوئے کیونکہ ان کے دلوں میں اپنی اپنی عظمت بیٹھی ہوئی تھی۔انسان کثرت قوم۔قدامت اور کثرت مال کے باعث متکبر ہو جایا کرتا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک غریب قلیل اور نئے گروہ والے تھے اس لیے (ابتدا میں)انہوں نے نہ مانا۔حق ہمیشہ مظلوم ہوتا ہے۔اسلام دوسری اقوام کا محسن ہے اسلام ایسا مطہّر مذہب ہے کہ کسی مذہب کے بانی کو بُرا نہیں کہنے دیتا۔مگر دوسرے مذاہب والے جھٹ گالی دینے کو طیار ہو جاتے ہیں۔دیکھو! یہ عیسائی قوم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو کس قدر گالی دیتی ہے۔اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت زندہ ہوتے تو آپ کی دنیاوی عظمت کے خیال سے بھی یہ لوگ کوئی کلمہ زبان پر نہ لا سکتے بلکہ ہزار ہا درجہ تعظیم سے پیش آتے۔امیر کابل اور سلطان روم ایک ادنیٰ امتی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہیں اُن کو گالی نہیں دے سکتے۔بے ادبی سے پیش نہیں