ملفوظات (جلد 1) — Page 127
کرتے ہیں کہ کوئی بیٹا اپنے باپ کو بدنام کرے؟ طوائف کے ہاں جاوے اور قمار بازی کرتا پھرے۔شراب پیوے یا اور ایسے افعال قبیحہ کا مرتکب ہو جو باپ کی بدنامی کا موجب ہوں۔میں جانتا ہوں کوئی آدمی ایسا نہیں ہو سکتا جو اس فعل کو پسند کرے لیکن جب وہ ناخلف بیٹا ایسا کرتا ہے تو پھر زبان خلق بند نہیں ہو سکتی۔لوگ اس کے باپ کی طرف نسبت کر کے کہیں گے کہ یہ فلاں شخص کا بیٹا فلاں بَد کام کرتا ہے۔پس وہ ناخلف بیٹا خود ہی باپ کی بدنامی کا موجب ہوتا ہے۔اسی طرح پر جب کوئی شخص ایک سلسلہ میں شامل ہوتا ہے اور اسی سلسلہ کی عظمت اور عزت کا خیال نہیں رکھتا اور اس کے خلاف کرتا ہے تو وہ عنداللہ ماخوذ ہوتا ہے کیونکہ وہ صرف اپنے آپ ہی کو ہلاکت میں نہیں ڈالتا بلکہ دوسروں کے لئے ایک بُرا نمونہ ہو کر ان کو سعادت اور ہدایت کی راہ سے محروم رکھتا ہے۔پس جہاں تک آپ لوگوں کی طاقت ہے خدائے تعالیٰ سے مدد مانگو اور اپنی پوری طاقت اور ہمت سے اپنی کمزوریوں کو دور کرنے کی کوشش کرو۔جہاں عاجز آجاؤ وہاں صدق اور یقین سے ہاتھ اٹھاؤ کیونکہ خشوع اور خضوع سے اٹھائے ہوئے ہاتھ جو صدق اور یقین کی تحریک سے اٹھتے ہیں واپس نہیں ہوتے۔ہم تجربہ سے کہتے ہیں کہ ہماری ہزارہا دعائیں قبول ہوئی ہیں اور ہو رہی ہیں۔یہ ایک یقینی بات ہے کہ اگر کوئی شخص اپنے اندر اپنے ابنائے جنس کے لئے ہمدردی کا جوش نہیں پاتا وہ بخیل ہے۔اگر میں ایک راہ دیکھوں جس میں بھلائی اور خیر ہے تو میرا فرض ہے کہ میں پکار پکار کر لوگوں کو بتلاؤں۔اس امر کی پروا نہیں ہوتی کہ کوئی اس پر عمل کرتا ہے یا نہیں۔کس بشنود یا نشنود من گفتگوئے میکنم # اگر ایک شخص بھی زندہ طبیعت کا نکل آوے تو کافی ہے۔میں یہ بات کھول کر بیان کرتا ہوں کہ میرے مناسب حال یہ بات نہیں ہے کہ جو کچھ میں آپ لوگوں کو کہتا ہوں میں ثواب کی نیت سے کہتا ہوں۔نہیں! میں اپنے نفس میں انتہا درجہ کا جوش اور درد پاتا ہوں گو وہ وجوہ نامعلوم ہیں کہ کیوں یہ جوش ہے مگر اس میں ذرا بھی شک نہیں کہ یہ جوش ایسا ہے کہ میں رک نہیں سکتا۔اس لئے آپ لوگ ان باتوں کو ایسے آدمی کی وصایا سمجھ کر کہ پھر شاید ملنا نصیب نہ ہو اِن پر ایسے کاربند ہوں کہ ایک نمونہ ہو