ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 117 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 117

مومنوں کو اس آیت میں ایک نظیر دے کر متنبہ کیا جاتا ہے کہ جب تک غمرہ دور نہ ہو تو علیٰ وجہ البصیرت کام نہیں ہو سکتا اور وہ اولوالابصار نہیں کہلا سکتے۔قتل اس لئے فرمایا کہ وہ رحم کی جگہ ہے۔گویا وہ فاعل بھی خود ہی ہیں۔اپنے آپ کو خود ہلاک کیا۔بعض آدمیوں میں خراص ہونے کا مادہ ہوتا ہے۔وہ بصیرت اور دور اندیشی سے کام نہیں لیتے بلکہ ظنون فاسدہ اور اٹکلوں سے کام لیتے ہیں اور وہ اسی میں اپنا کمال سمجھتے ہیں۔میری غرض یہ تھی کہ حصہ اخلاق میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کامل نمونہ پیش کروں جو ایک فرد اکمل تھے۔زاں بعد متفرق طور پر آپ کے اخلاق سے حصہ لیا گیا۔کسی نے ایک لیا اور دوسرے نے کوئی اَور۔اور ایک کو دوسرے میں غمرہ ہو گیا۔جس طرح کسان کے لئے ضروری ہے کہ وہ اس غمرہ کو دور کرے ورنہ اس کا نتیجہ دوسرے پودوں پر اچھا نہیں ہو گا اسی طرح ہر ایک انسان کو ضروری ہے کہ وہ اپنے اندرونی غمرہ کو دور کرے ورنہ اندیشہ ہے کہ دوسری صفات حسنہ کو بھی نہ لے بیٹھے۔لِکُلِّ دَاءٍ دَوَاءٌ کا وسیع مفہوم یہ بات ٹھیک نہیں کہ بعض اخلاق کے تبدیل پروہ قادر ہے اور بعض پر نہیں۔نہیں نہیں! ہر ایک مرض کا علاج موجود ہے لِکُلِّ دَاءٍ دَوَاءٌ۔افسوس! لوگ آپ کے اس مبارک قول کی قدر نہیں کرتے اور اس کو صرف ظاہری امراض ہی تک محدود سمجھتے ہیں۔یہ کس قدر نادانی اور غلطی ہے۔جس حال میں ایک فانی جسم کے لئے اس کی اصلاح اور بھلائی کے کل سامان موجود ہیں تو کیا یہ ہو سکتا ہے کہ انسان کی روحانی امراض کا مداوا اللہ تعالیٰ کے حضور کچھ بھی نہ ہو؟ ہے اور ضرور ہے۔یہ ایک واقعی اور یقینی بات ہے کہ خدا تعالیٰ ان لوگوں کی مدد کرتا ہے جو آپ اپنی مدد کرتے ہیں لیکن جو کسل اور سستی سے کام کرتے ہیں وہ آخر کار ہلاک ہو جاتے ہیں۔پیرانہ سالی کی دو قسمیں انسان پر جیسے ایک طرف نَقْص فِی الْـخَلْقِ کا زمانہ آتا ہے جسے بڑھاپا کہتے ہیں اس وقت آنکھیں اپنا کام چھوڑ دیتی ہیں اور کان شنوا نہیں ہو سکتے۔غرض کہ ہر ایک عضو بدن اپنے کام سے عاری اور معطل کے قریب قریب ہو جاتا