ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 116 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 116

جن کو گورنمنٹ کے ہاں کرسیاں ملتی تھیں اور رومی گورنمنٹ ان کے گروہ کی وجہ سے عزت کرتی تھی مسیح کو تنگ کرتے رہے مگر کوئی اقتدار کا وقت حضرت مسیح کی زندگی میں ایسا نہ آیا جس سے معلوم ہو جاتا کہ وہ کہاں تک باوجود مقدرت انتقام کے عفو سے کام لیتے ہیں مگر برخلاف اس کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق ایسے ہیں کہ وہ مشاہدہ اور تجربہ کی محک پر کامل المعیار ثابت ہوئے۔وہ صرف باتیں ہی نہیں بلکہ ان کی صداقت کا ثبوت ہمارے ہاتھ میں ایسا ہی ہے جیسے ہندسہ اور حساب کے اصول صحیح اور یقینی ہیں اور ہم دو اور دو چار کی طرح ان کو ثابت کر سکتے ہیں لیکن کسی اور نبی کا متبع ایسا نہیں کر سکتا۔اسی لئے آپؐ کی مثال ایک ایسے درخت سے دی جس کی جڑھ، چھال ، پھل ، پھول ، پتے غرض ہر ایک چیز مفید اور غایت درجہ مفید، راحت رساں اور سرور بخش ہے۔چونکہ جناب سرور کائنات علیہ التحیات کے بعد اُمت میں ایک تفرقہ پیدا ہو گیا اس لئے وہ جامعیت اخلاق بھی نہ رہی بلکہ جدا جدا اور متفرق طور پر وہ مجموعہٴ اخلاق پھیل گیا۔اس لئے بعض آدمی بعض اخلاق کو آسانی سے صادر کر سکتے ہیں۔تزکیہ نفس اور فلاح ہدایت الٰہی تو یہ ہے کہ قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَكّٰىهَا۔وَ قَدْ خَابَ مَنْ دَسّٰىهَا (الشّمس:۱۱،۱۰) نجات پائے گا وہ شخص جس نے تزکیہ نفس کیا اور ہلاک ہو گیا وہ آدمی جس نے نفس کو بگاڑا۔فلح چیرنے کو کہتے ہیں۔فلاحت زراعت کو جانتے ہو۔تزکیۂ نفس میں بھی فلاحت ہے۔مجاہدہ انسانی نفس کو اس کی خرابیوں اور سختیوں سے صاف کر کے اس قابل بنا دیتا ہے کہ اس میں ایمان صحیحہ کی تخم ریزی کی جاوے پھر وہ شجر ایمان بارور ہونے کے لائق بن جاتا ہے۔چونکہ ابتدائی مراحل اور منازل میں متّقی کو بڑی بڑی مصائب اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اس لئے فلاح سے تعبیر کیا ہے۔دوسری جگہ فرمایا ہے قُتِلَ الْخَرّٰصُوْنَ۔الَّذِيْنَ هُمْ فِيْ غَمْرَةٍ سَاهُوْنَ (الذَّارِیَات:۱۲،۱۱) اللہ تعالیٰ کفار کا حال بیان کرتا ہے کہ ستیاناس ہو گیا اٹکل بازیاں کرنے والوں کا جن کے نفوس غمرہ میں پڑے ہوئے ہیں۔غمرہ دبانے والی چیز کو کہتے ہیں، جو سر اٹھانے نہ دے۔کھیت پر بھی غمرہ پڑتا ہے جیسے کھیتوں پر پڑتا ہے جسے کرنڈ کہتے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اٹکل بازیاں کرنے والوں کا ستیاناس ہو گیا۔ہنوز ان کے نفوس غمرہ میں پڑے ہوئے ہیں۔