ملفوظات (جلد 1) — Page 114
پڑے گا کہ آدمی ہے ؟ گدھا ہے؟ یا کیا ہے؟ جب خُلق میں فرق آجاوے تو صورت ہی رہتی ہے۔مثلاً عقل ماری جاوے تو مجنون کہلاتا ہے صرف ظاہری صورت سے ہی انسان کہلاتا ہے۔پس اخلاق سے مراد خدائے تعالیٰ کی رضا جوئی (جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عملی زندگی میں مجسم نظر آتی ہے) کا حصول ہے۔اس لئے ضروری ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرز زندگی کے موافق اپنی زندگی بنانے کی کوشش کرے۔یہ اخلاق بطور بنیاد کے ہیں۔اگر وہ متزلزل رہے تو اس پر عمارت نہیں بنا سکتے۔اخلاق ایک اینٹ پر دوسری اینٹ کا رکھنا ہے۔اگر ایک اینٹ ٹیڑھی ہو تو ساری دیوار ٹیڑھی ہی رہتی ہے۔کسی نے کیا اچھا کہا ہے خشت اول چوں نہد معمار کج تا ثریا مے رود دیوار کج # ان باتوں کو نہایت توجہ سے سننا چاہیے۔اکثر آدمیوں کو میں نے دیکھا اور غور سے مطالعہ کیا ہے کہ بعض سخاوت تو کرتے ہیں لیکن ساتھ ہی غصہ ور اور زُود رنج ہیں۔بعض حلیم تو ہیں لیکن بخیل ہیں ، بعض غضب اور طیش کی حالت میں ڈنڈے مار مار کر گھائل کر دیتے ہیں مگر تواضع اور انکسار نام کو نہیں۔بعض کو دیکھا ہے کہ تواضع اور انکسار تو ان میں پرلے درجہ کا ہے مگر شجاعت نہیں ہے۔یہاں تک کہ طاعون اور ہیضہ کا نام بھی سن لیں تو دست لگ جاتے ہیں۔میں یہ خیال نہیں کرتا کہ جو ایسے طور پر شجاعت نہیں کرتا اس کا ایمان نہیں۔صحابہ کرام ؓ میں بھی بعض ایسے تھے کہ ان کو لڑائی کی قوت اور جانچ نہ تھی۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو معذور رکھتے تھے۔یہ اخلاق بہت ہیں۔میں نے جلسہ مذاہب کی تقریر میں ان سب کو واضح طور پر اور مفصل بیان کیا ہے۔ہر انسان جامع صفات بھی نہیں اور بالکل محروم بھی نہیں ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے اخلاق عالیہ سب سے اکمل نمونہ اور نظیر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہیں جو جمیع اخلاق میں کامل تھے۔اسی لئے آپ کی شان میں فرمایا اِنَّكَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِيْمٍ (القلم:۵) ایک وقت ہے کہ آپ فصاحت بیانی سے ایک گروہ کو تصویر کی صورت حیران کر رہے ہیں۔ایک