ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 113 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 113

کیونکہ اگر اس کا فضل اور کرم دستگیری نہ کرے تو عاجز انسان ایسی تاریکی اور اندھکار میں پھنسا ہوا ہے کہ وہ دعا ہی نہیں کر سکتا۔پس جب تک انسان خدا کے اس فضل کو جو رحمانیت کے فیضان سے اسے پہنچا ہے کام میں لا کر دعا نہ مانگے کوئی نتیجہ بہتر نہیں نکال سکتا۔میں نے عرصہ ہوا انگریزی قانون میں یہ دیکھا تھا کہ تقاوی کے لئے پہلے کچھ سامان دکھانا ضروری ہوتا ہے۔اسی طرح سے قانون قدرت کی طرف دیکھو کہ جو کچھ ہم کو پہلے ملا ہے اس سے کیا بنایا؟ اگر عقل و ہوش ،آنکھ ، کان رکھتے ہوئے نہیں بہکے ہو اور حمق اور دیوانگی کی طرف نہیں گئے تو دعا کرو اور بھی فیض الٰہی ملے گا، ورنہ محرومی اور بدقسمتی کے لچھن ہیں۔حکمت کے معنی بسا اوقات ہمارے دوستوں کو عیسائیوں سے واسطہ پڑے گا۔وہ دیکھیں گے کہ کوئی بھی بات نادانوں میں ایسی نہیں جو حکیم خدا کی طرف منسوب ہو سکے۔حکمت کے معنی کیا ہیں ؟ وَضْعُ الشَّیْءِ فِیْ مَـحَلِّہٖ مگر ان میں دیکھو گے کہ کوئی فعل اور حکم بھی اس کا مصداق نظر نہیں آتا۔اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْمَ پر جب ہم پُر غور نظر کرتے ہیں تو اِشَارۃُ النَّص کے طور پر پتہ لگتا ہے کہ بظاہر تو اس سے دعا کرنے کا حکم معلوم ہوتا ہے کہ صِرَاطَ الْمُسْتَقِيْمِ کی ہدایت مانگنے کی تعلیم ہے لیکن اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَ اِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ اس کے سر پر بتلا رہا ہے کہ اس سے فائدہ اٹھاویں یعنی راہ راست کے منازل کے لئے قوائے سلیم سے کام لے کر استعانت الٰہی کو مانگنا چاہیے۔اخلاق سے کیا مراد ہے اب سوچنا چاہیے کہ وہ کون سی باتیں ہیں جو مانگنی چاہئیں۔اول اخلاق جو انسان کو انسان بناتا ہے۔اخلاق سے کوئی صرف نرمی کرنا ہی مراد نہ لے لے۔خَلق اور خُلق دو لفظ ہیں جو بالمقابل معنوں پر دلالت کرتے ہیں۔خَلق ظاہری پیدائش کا نام ہے۔جیسے کان ، ناک یہاں تک کہ بال وغیرہ بھی سب خَلق میں شامل ہیں اور خُلق باطنی پیدائش کا نام ہے۔ایسا ہی باطنی قویٰ جو انسان اور غیر انسان میں مابہ الامتیاز ہیں وہ سب خُلق میں داخل ہیں۔یہاں تک کہ عقل فکر وغیرہ تمام قوتیں خُلق ہی میں داخل ہیں۔خُلق سے انسان اپنی انسانیت کو درست کرتا ہے۔اگر انسانوں کے فرائض نہ ہوں تو فرض کرنا