ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 4 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 4

ہے وہ آخر اُسے چھوڑے گا۔حدیث میں آیا ہے کہ جب انسان بار بار رو رو کر اللہ سے بخشش چاہتا ہے تو آخر کار خدا کہہ دیتا ہے کہ ہم نے تجھ کو بخش دیا۔اب تیرا جو جی چاہے سو کر۔اس کے یہ معنی ہیں کہ اس کے دل کو بدلا دیا اور اب گناہ اُسے بالطبع بُرا معلوم ہوگا۔جیسے بھیڑ کو مَیلا کھاتے دیکھ کر کوئی دوسرا حِرص نہیں کرتا کہ وہ بھی کھاوے اسی طرح وہ اِنسان بھی گناہ کی حرص نہ کرے گا جسے خدا نے بخش دیا ہے۔مسلمانوں کو خنزیر کے گوشت سے جو بالطبع کراہت ہے حالانکہ اور دوسرے ہزاروں کام کرتے ہیں جو حرام اور منع ہیں تو اس میں حکمت یہی ہے کہ ایک نمونہ کراہت کا رکھ دیا ہے اور سمجھا دیا ہے کہ اسی طرح انسان کو گناہ سے نفرت ہو جاوے۔دعا تریاق ہے گناہ کرنے والا اپنے گناہ کی کثرت وغیرہ کا خیال کرکے دعا سے ہرگز باز نہ رہے۔دعا تریاق ہے۔آخر دعاؤں سے دیکھ لے گا کہ گناہ اسے کیسا بُرا لگنے لگا۔جو لوگ معاصی میں ڈوب کر دعا کی قبولیت سے مایوس رہتے ہیں اور توبہ کی طرف رجوع نہیں کرتے آخر وہ انبیاء اور ان کی تاثیرات سے منکر ہو جاتے ہیں۔توبہ جُزوِ بیعت ہے یہ توبہ کی حقیقت ہے (جو اوپر بیان ہوئی) اور یہ بیعت کی جز کیوں ہے؟ تو بات یہ ہے کہ انسان غفلت میں پڑا ہوا ہے۔جب وہ بیعت کرتا ہے اور ایسے کے ہاتھ پر جسے اللہ تعالیٰ نے وہ تبدیلی بخشی ہو تو جیسے درخت میں پیوند لگانے سے خاصیت بدل جاتی ہے اسی طرح سے اس پیوند سے بھی اس میں وہ فیوض اور انوار آنے لگتے ہیں (جو اُس تبدیلی یافتہ انسان میں ہوتے ہیں) بشرطیکہ اُس کے ساتھ سچا تعلق ہو۔خشک شاخ کی طرح نہ ہو۔اُس کی شاخ ہو کر پیوند ہوجاوے۔جس قدر یہ نسبت ہوگی اُسی قدر فائدہ ہوگا۔رسمی بیعت فائدہ نہیں دیتی بیعت رسمی فائدہ نہیں دیتی۔ایسی بیعت سے حصہ دار ہونا مشکل ہوتا ہے۔اسی وقت حصہ دار ہوگا جب اپنے وجود کو ترک کر کے بالکل محبت اور اخلاص کے ساتھ اس کے ساتھ ہو جاوے۔منافق آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم