ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 111 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 111

کا زمین آسمان اور ارضی اور سماوی اشیاء ایسی پیدا کی ہیں جو سب ہمارے کام آنے والی ہیں اور کام آتی ہیں اور ان سب اشیاء سے انسان ہی عام طور پر فائدہ اٹھاتا ہے۔بھیڑ بکری اور دیگر حیوانات جبکہ بجائے خود انسان کے لئے مفید شے ہیں تو وہ کیا فائدہ اٹھاتے ہیں؟ دیکھو جسمانی امور میں انسان کیسی کیسی لطیف اور اعلیٰ درجہ کی غذائیں کھاتا ہے۔اعلیٰ درجہ کا گوشت انسان کے لئے ہے۔ٹکڑے اور ہڈیاں کتوں کے واسطے۔جسمانی طور پر جو حظوظ اور لذّات انسان کو حاصل ہیں گو حیوان بھی اس میں شریک ہیں مگر انسان کو وہ بدرجۂ اعلیٰ حاصل ہیں اور روحانی لذّات میں جانور شریک بھی نہیں ہیں۔پس یہ دو قسم کی رحمتیں ہیں۔ایک وہ جو ہمارے وجود سے پہلے پیش از وقت کے طور پر تقدمہ کی صورت میں عناصر وغیرہ اشیاء پیدا کیں جو ہمارے کام میں لگی ہوئی ہیں اور یہ ہمارے وجود ، خواہش اور دعا سے پہلے ہیں جو رحمانیت کے تقاضے سے پیدا ہوئے۔اور دوسری رحمت رحیمیت کی ہے۔یعنی جب ہم دعا کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ دیتا ہے۔غور کیا جاوے تو معلوم ہوگا کہ قانون قدرت کا تعلق ہمیشہ سے دعا کا تعلق ہے۔بعض لوگ آج کل اس کو بدعت سمجھتے ہیں۔ہماری دعا کا جو تعلق خدائے تعالیٰ سے ہے میں چاہتا ہوں کہ اسے بھی بیان کروں۔ایک بچہ جب بھوک سے بیتاب ہو کر دودھ کے لئے چلاتا اور چیختا ہے تو ماں کے پستان میں دودھ جوش مار کر آجاتا ہے۔بچہ دعا کا نام بھی نہیں جانتا لیکن اس کی چیخیں دودھ کو کیونکر کھینچ لاتی ہیں؟ اس کا ہر ایک کو تجربہ ہے بعض اوقات دیکھا گیا ہے کہ مائیں دودھ کو محسوس بھی نہیں کرتیں مگر بچہ کی چلاہٹ ہے کہ دودھ کو کھینچے لاتی ہے۔تو کیا ہماری چیخیں جب اللہ تعالیٰ کے حضور ہوں تو وہ کچھ بھی نہیں کھینچ کر لا سکتیں؟ آتا ہے اور سب کچھ آتا ہے مگر آنکھوں کے اندھے جو فاضل اور فلاسفر بنے بیٹھے ہیں وہ دیکھ نہیں سکتے۔بچہ کو جو مناسبت ماں سے ہے اس تعلق اور رشتہ کو انسان اپنے ذہن میں رکھ کر اگر دعا کی فلاسفی پر غور کرے تو وہ بہت آسان اور سہل معلوم ہوتی ہے۔دوسری قسم کا رحم یہ تعلیم دیتا ہے کہ ایک رحم مانگنے کے بعد پیدا ہوتا ہے۔مانگتے جاؤ گے ملتا جاوے گا اُدْعُوْنِيْٓ اَسْتَجِبْ لَكُمْ (المؤمن:۶۱) کوئی لفّاظی نہیں بلکہ یہ انسانی سرشت کا ایک لازمہ ہے۔