ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 3 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 3

وطن کو چھوڑنے میں تو اس کو سب یار دوستوں سے قطع تعلق کرنا پڑتا ہے اور سب چیزوں کو مثل چارپائی، فرش و ہمسائے، وہ گلیاں، کوچے، بازار سب چھوڑ چھاڑ کر ایک نئے ملک میں جانا پڑتا ہے یعنی اس وطن میں کبھی نہیں آتا۔اس کا نام توبہ ہے۔معصیت کے دوست اَور ہوتے ہیں اور تقویٰ کے دوست اَور۔اس تبدیلی کو صوفیاء نے موت کہا ہے۔جو توبہ کرتا ہے اسے بڑا حرج اٹھانا پڑتا ہے اور سچی توبہ کے وقت بڑے بڑے حرج اس کے سامنے آتے ہیں اور اللہ تعالیٰ رحیم کریم ہے۔وہ جب تک اس کل کا نعم البدل عطا نہ فرماوے نہیں مارتا۔اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ التَّوَّابِیۡنَ (البقرۃ: ۲۲۳) میں یہی اشارہ ہے کہ وہ توبہ کر کے غریب، بیکس ہو جاتا ہے اس لئے اللہ تعالیٰ اس سے محبت اور پیار کرتا ہے اور اُسے نیکوں کی جماعت میں داخل کرتا ہے۔دوسری قومیں خدا کو رحیم ، کریم خیال نہیں کرتیں۔عیسائیوں نے خدا کو تو ظالم جانا اور بیٹے کو رحیم کہ باپ تو گناہ نہ بخشے اور بیٹا جان دے کر بخشوائے۔بڑی بے وقوفی ہے کہ باپ بیٹے میں اتنا فرق۔والد مولود میں مناسبت اخلاق عادات کی ہوا کرتی ہے (مگر یہاں تو بالکل ندارد) اگر اللہ رحیم نہ ہوتا تو انسان کا ایک دم گزارہ نہ ہوتا۔جس نے انسان کے عمل سے پیشتر ہزاروں اشیاء اُس کے لئے مفید بنائیں تو کیا یہ گمان ہوسکتا ہے کہ توبہ اور عمل کو قبول نہ کرے۔گناہ اور توبہ کی حقیقت گناہ کی یہ حقیقت نہیں ہے کہ اللہ گناہ کو پیدا کرے اور پھر ہزاروں برس کے بعد گناہ کی معافی سُوجھے۔جیسے مکھی کے دو پَر ہیں۔ایک میں شفا اور دُوسرے میں زہر۔اسی طرح انسان کے دو پَر ہیں۔ایک معاصی کا دوسرا خجالت، توبہ، پریشانی کا۔یہ ایک قاعدہ کی بات ہے جیسے ایک شخص جب غلام کو سخت مارتا ہے تو پھر اُس کے بعد پچھتاتا ہے۔گویا کہ دونوں پَر اکٹھے حرکت کرتے ہیں۔زہر کے ساتھ تریاق ہے۔اب سوال یہ ہے کہ زہر کیوں بنایا گیا؟ تو جواب یہ ہے کہ گویہ زہر ہے مگر کُشۃ کرنے سے حکم اکسیر کا رکھتا ہے۔اگر گناہ نہ ہوتا تو رعونت کا زہر انسان میں پڑ جاتا اور ہلاک ہو جاتا۔توبہ اس کی تلافی کرتی ہے۔کبر اور عُجب کی آفت سے گناہ انسان کو بچائے رکھتا ہے۔جب نبی معصوم ؐ ستّر بار استغفار کرے تو ہمیں کیا کرنا چاہیے؟ گناہ سے توبہ وہی نہیں کرتا جو اس پر راضی ہو جاوے اور جو گناہ کو گناہ جانتا