ملفوظات (جلد 1) — Page 92
ہے اُجِیْبُ کُلَّ دُعَائِکَ۔دوسرے لفظوں میں یوں کہو کہ ہر ایک ایسی دعا جو نفس الامر میں نافع اور مفید ہے قبول کی جائے گی۔میں جب اس خیال کو اپنے دل میں پاتا ہوں تو میری روح لذّت اور سرور سے بھر جاتی ہے۔جب مجھے یہ اول ہی اول الہام ہوا قریباً پچیس یا تیس برس کا عرصہ ہوتا ہے تو مجھے بہت ہی خوشی ہوئی کہ اللہ تعالیٰ میری دعائیں جو میرے یا میرے احباب کے متعلق ہوں گی ضرور قبول کرے گا۔پھر میں نے خیال کیا کہ اس معاملہ میں بخل نہیں ہونا چاہیے کیونکہ یہ ایک انعام الٰہی ہے اور اللہ تعالیٰ نے متقین کی صفت میں فرمایا ہے وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ يُنْفِقُوْنَ (البقرۃ:۴) پس میں نے اپنے دوستوں کے لئے یہ اصول کر رکھا ہے کہ خواہ وہ یاد دلائیں یا نہ یاد دلائیں کوئی امر خطیر پیش کریں یا نہ کریں۔ان کی دینی اور دنیوی بھلائی کے لئے دعا کی جاتی ہے۔قبولیت دعا کی شرائط مگر یہ بات بھی بحضور دل سن لینی چاہیے کہ قبول دعا کے لئے بھی چند شرائط ہوتی ہیں ان میں سے بعض تو دعا کرنے والے کے متعلق ہوتی ہیں اور بعض دعا کرانے والے کے متعلق۔دعا کرانے والے کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے خوف اور خشیت کو مدنظر رکھے اور اس کے غناءِ ذاتی سے ہر وقت ڈرتا رہے اور صلح کاری اور خدا پرستی اپنا شعار بنا لے۔تقویٰ اور راستبازی سے خدائے تعالیٰ کو خوش کرے تو ایسی صورت میں دعا کے لئے باب استجابت کھولا جاتا ہے اور اگر وہ خدائے تعالیٰ کو ناراض کرتا ہے اور اس سے بگاڑ اور جنگ قائم کرتا ہے تو اس کی شرارتیں اور غلط کاریاں دعا کی راہ میں ایک سد اور چٹان ہو جاتی ہیں اور استجابت کا دروازہ اس کے لئے بند ہو جاتا ہے۔ہماری دعاؤں کو ضائع ہونے سے بچائیں پس ہمارے دوستوں کے لئے لازم ہے کہ وہ ہماری دعاؤں کو ضائع ہونے سے بچاویں اور ان کی راہ میں کوئی روک نہ ڈال دیں جو ان کی ناشائستہ حرکات سے پیدا ہو سکتی ہے۔ان کو چاہیے کہ وہ تقویٰ کی راہ اختیار کریں کیونکہ تقویٰ ہی ایک ایسی چیز ہے جس کو شریعت کا خلاصہ کہہ سکتے ہیں اور اگر شریعت کو مختصر طور پر بیان کرنا چاہیں تو مغز شریعت تقویٰ ہی ہو سکتا ہے۔