ملفوظات (جلد 10) — Page 88
بعض ایسے مقامات بھی ہیں جن میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت نہیں پہنچی مگر اب تو ڈاک، تار، ریل سے زمین کے اس سرے سے اُس سرے تک خبر پہنچ سکتی ہے۔یہ حجاز ریلوے جو بن رہی ہے یہ بھی اسی پیشگوئی کے ماتحت ہے۔عرب کے کئی لوگ کہنے لگ گئے ہیں کہ اِذَا الْعِشَارُ عُطِّلَتْ (التکویر:۵) کا زمانہ آگیا۔عِشار( گابھن اونٹنیاں) کا لفظ خود ظاہر کرتا ہے کہ یہ سب قیامت سے پہلے ہو گا کیونکہ اس دن کی نسبت تو لکھا ہے کہ ہر حمل والی اپنا حمل گرا دے گی اور پھر اس دن تو ہر چیز معطل ہو جائے گی، اونٹنیوں کی خصوصیت کیا ہے ؟ مطلب یہ تھا کہ اب تجارت کا دارومدار اُونٹنیوں پر ہے پھر ریل پر ہو گا۔اور چونکہ حدیث میں یہی زمانہ مسیح موعود کا لکھا ہے اس لئے اب عرب والوں کو مسیح موعود کی تلاش کرنی چاہیے۔دیکھو! اب تو اُن کے گھر میں ریل بن رہی ہے اور خود ہمارے دشمن اس میں سر توڑ کوشش کر رہے ہیں۔یہ بھی ایک نشان ہے کہ ہمارے دشمنوں کو خدا نے ہمارے کام میں لگا دیا ہے۔چندہ تو دے رہے ہیں وہ اور صداقت ہماری ثابت ہو گی۔نشانا ت کی تکذیب افسو س کہ یہ لوگ ہمارے بغض کی وجہ سے آنحضرتؐکی پیشگوئیوں کی تکذیب بھی کر دیتے ہیں مگر کس کس نشان کی یہ تکذیب کریں گے۔خدا نے ہمارے لیے طاعون بھیجا۔زلزلہ بھی آیا۔یاجوج ماجوج دجّال کا خروج ہو چکا۔کسوف خسوف ماہ ِرمضان میںغیر معمولی طور سے ہو چکا۔کہتے ہیں کہ یہ حدیث ضعیف ہے۔نادان یہ نہیں سمجھتے کہ جب واقع ہو گئی تو اب راویوں پر جرح فضول ہے۔جب کوئی اَمر واقع ہو جائے تو بڑا ہی بیوقوف ہے وہ شخص جو پھر بھی کہے فلاں راوی ایسا ہے اور فلاں ایسا۔ایک بزرگ نے لکھا ہے کہ بعض حدیثیں صحیح، عجب نہیں اگر موضوع ثابت ہوں اور کئی ایسی حدیثیں جنہیں موضوع کہتے ہیں صحیح واقعات نے صحیح ثابت کیں۔ان لوگوں میں ذرا بھی ایمان ہو تو مان لیں۔دیکھو! حدیث وقرآن وحالات موجو دہ کا آپس میں کیا تطابق ہوا ہے یہ ہمیں مفتری کہتے ہے۔اچھا الہام بنانے پر تو ہمارا اختیار ہے کیا آسمان پر بھی ہمارا ختیار تھا کہ ہم ماہِ رمضان میں خلافِ معمول کسوف خسوف کراتے؟ کیا طاعون پر ہمارا اختیار تھا کہ اُسے لے آتے ؟ کیا ریل ہماری کوشش سے بن رہی ہے