ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 87 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 87

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۸۷ جلد دہم ہے کہ آزادی کا زمانہ ہوگا اور یہ آزادی کمال تک پہنچ جائے گی تو اس وقت اللہ تعالیٰ اپنے مامور کی معرفت ان کو جمع کرنے کا ارادہ کرے گا۔ پہلے دیکھو جَعْتُهُمْ فرمایا اور ابتدائے عالم کے لئے خَلَقَكُمْ مِّنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيرًا وَنِسَاءً ( النساء : ٢) فرمایا۔ لفظ بت اور جمع آپس میں پورا تناقض رکھتے ہیں گو یا دائرہ پورا ہو کر پھر وہی زمانہ ہو جائے گا۔ پہلے تو وحدت شخصی تھی اب اخیر میں وحدت نوعی ہو جائے گی۔ اس سے آگے فرماتا ہے وَ عَرَضْنَا جَهَنَّمَ يَوْمَئِذٍ لِلْكَفِرِينَ عَرَضًا ( الكهف : ١٠١ ) یه مسیح موعود کے زمانے کا ایک نشان بتلایا کہ اس دن جہنم پیش کیا جاوے گا ان کافروں پر ۔ یہ قیامت کا ذکر نہیں کیونکہ اس دن جہنم کا پیش کیا کرنا ہے اس روز تو اس میں کفار داخل ہوں گے ۔ جہنم سے مراد طاعون ہے۔ چنانچہ ہمارے الہامات میں کئی بار طاعون کو جہنم فرمایا گیا ہے ۔ يَأْتِي عَلَى جَهَنَّمَ زَمَانٌ لَّيْسَ فِيهَا أَحَدٌ بھی ایک الہام ہے۔ اللہ تعالیٰ نے دو فرقوں کا ذکر فرما دیا۔ ایک تو وہ سعید جنہوں نے مسیح کو قبول کیا دوسرے وہ شقی جو مسیح کا کفر کرنے والے ہوں گے۔ اُن کے لئے فرمایا کہ ہم طاعون بطور جہنم بھیجیں گے اور نفخ في الصُّورِ (الكهف: ١٠٠) سے یہ مراد ہے کہ جو لوگ خدا کی طرف سے آتے ہیں وحی کے ذریعہ ان میں آواز دی جاتی ہے اور پھر یہ آواز اُن کی معرفت تمام جہان میں پہنچتی ہے پھر ان میں ایک ایسی کشش پیدا ہو جاتی ہے کہ لوگ با وجود اختلاف خیالات و طبائع و حالات کے اس کی آواز پر جمع ہونے لگتے ہیں اور آخر کا ر وہ زمانہ آ جاتا ہے کہ ایک ہی گلہ اور ایک ہی گلہ بان ہو ۔“ 66 خدا تعالیٰ نے ہمارے لیے خود ہی ایسے اسباب مہیا کر دیئے ہیں کہ جس سے تمام سعید روحیں ایک دین پر جمع ہو سکیں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو فرمایا گیا تھا قُلْ يَأَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا (الاعراف : ۱۵۹) ایک طرف یہ جَمِيعًا دوسری طرف جَمَعْتُهُمْ جَمْعًا ایک خاص علاقہ رکھتا ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ ابتدائی کارروائی اس جمع کی تو اسی زمانہ نبوی میں شروع ہوگئی تھی مگر اسباب کا تہیہ کمال پر اس زمانہ میں پہنچا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں سفر کی تمام راہیں نہ کھلی تھیں ۔ تفسیر کبیر میں لکھا ہے کہ