ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 86 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 86

اور دن کافی ہوتے ہیں خواہ مخواہ حجت کرنا یا تساہل کرنا جائز نہیں۔۱ ۳؍جنوری ۱۹۰۸ء (بوقتِ سیر) قرآن کریم میں مذکور آخری زمانہ کی علامات فرمایا۔قرآن مجید میں آتا ہے کہ کفار کہیں گے لَوْ كُنَّا نَسْمَعُ اَوْ نَعْقِلُ مَا كُنَّا فِيْۤ اَصْحٰبِ السَّعِيْرِ (الملک:۱۱ ) اس سے معلوم ہوتا ہے کہتدبّر کے سوا ایمان صحیح نہیں ہوتا۔سورۃ تکویر میں سب نشانات آخری زمانے کے ہیں۔انہیں میں سے ایک نشان ہے وَ اِذَا الْعِشَارُ عُطِّلَتْ(التکویر:۵) یعنی جب اونٹنیاں بیکار چھوڑی جائیں گی۔اسی کی تفسیر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وَلَیُتْـرَکُنَّ الْقِلَاصُ فَلَا یُسْعٰی عَلَیْـھَا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ مسیح موعود بھی اسی زمانہ میں ہوگا بلکہ اس کے ابتدائی زمانے کے یہ نشان ہیں۔پھر فرمایا وَ اِذَا النُّفُوْسُ زُوِّجَتْ ( التکویر : ۸ ) یعنی ایسے اسبابِ سفر مہیا ہو جائیں گے کہ قومیں باوجود اتنی دور ہونے کے آپس میں مل جائیں گی حتی کہ نئی دنیا پرانی سے تعلقا ت پیدا کر لے گی۔یاجوج ماجوج کا آنا۔دجّال کا نکلنا اور صلیب کا غلبہ یہ بھی اسی زمانے کے نشان ہیں۔ان کے متعلق لو گوں نے غلط فہمی سے تنا قض پیدا کر لیا ہے اور یہ سمجھتے ہیں کہ یہ سب الگ الگ ہیں۔حالانکہ ان میں سے ہر ایک کی نسبت یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ وہ تمام روئے زمین پر محیط ہو جائیں گے۔پس اگر یاجوج ماجوج محیط ہو گئے تو پھر دجّال کہاں احاطہ کرے گا اور صلیب کا غلبہ کس جگہ ہوگا ؟ سِوا یہ کہنے کے کچھ چارہ نہیں کہ یہ سب ایک ہی قوم کے مختلف افراد ہیں اور اگر ان کو ایک بنا دیں تو پھر کوئی مشکل نہ رہے گی۔خدا تعالیٰ نے ان کی نسبت فرمایا ہے وَ تَرَكْنَا بَعْضَهُمْ يَوْمَىِٕذٍ يَّمُوْجُ فِيْ بَعْضٍ وَّنُفِخَ فِي الصُّوْرِ فَجَمَعْنٰهُمْ جَمْعًا( الکھف : ۱۰۰ ) جس سے ظاہر ہے کہ نہایت درجہ کا اختلاف پیدا ہوجائے گا اور سب مذاہب ایک دنگل میں ہو کر نکلیں گے۔’’تَرَكْنَا ‘‘کا اس بات کی طرف اشارہ ۱ بدر جلد ۷ نمبر ۳ مورخہ ۲۳؍جنوری ۱۹۰۸ءصفحہ ۲