ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 85 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 85

بلا تا ریخ سفر میں نمازوں کا قصر سوال پیش ہوا کہ اگر کوئی تین کوس سفر پر جائے تو کیا نماز وں کو قصر کرے ؟ فرمایا۔ہاں دیکھو! اپنی نیت کو خو ب دیکھ لو۔ایسی تما م باتوں میں تقویٰ کا بہت خیال رکھنا چاہیے۔اگر کوئی شخص ہر روز معمولی کاروبار یا سفر کے لیے جاتا ہے تو وہ سفر نہیں بلکہ سفر وہ ہے جسے انسان خصوصیت سے اختیار کرے اور صرف اس کام کے لئے گھر چھوڑ کر جائے اور عرف میں وہ سفر کہلاتا ہے۔دیکھو! یوں تو ہم ہر روز سیر کے لئے دو دو میل نکل جاتے ہیں مگر یہ سفر نہیں ایسے موقع پر دل کے اطمینان کو دیکھ لینا چاہیے کہ اگر وہ بغیر کسی خلجان کے فتویٰ دے کہ یہ سفر ہے تو قصر کرے۔اِسْتَفْتِ قَلْبَکَ ( اپنے دل سے فتویٰ لو ) پر عمل چاہیے ہزار فتویٰ ہو پھر بھی مومن کا نیک نیتی سے قلبی اطمینان عمدہ شَے ہے۔عرض کیا گیا کہ انسانوں کے حالات مختلف ہیں بعض نو دس کوس کو بھی سفر نہیں سمجھتے۔بعض کے لیے تین چار کوس بھی سفر ہے۔فرمایا۔شریعت نے ان باتوں کا اعتبار نہیں کیا۔صحابہ کرام نے تین کوس کو بھی سفر سمجھا ہے۔عرض کیا گیا۔حضور بٹالہ جاتے ہیں تو قصر فرماتے ہیں۔فرمایا۔ہاں! کیونکہ وہ سفر ہے۔ہم تو یہ کہتے ہیں کہ اگر کوئی طبیب یا حاکم بطور دورہ کئی گاؤں میں پھرتا رہے تو وہ اپنے تمام سفر کو جمع کر کے اسے سفر نہیں کہہ سکتا۔قربانی کا بکرا سوال پیش ہوا۔ایک سال کا بکرا بھی قربانی کے لیے جائز ہے ؟ فرمایا۔مولوی صاحب سے پوچھ لو۔اہلحدیث وحنفاء کا اس میں اختلاف ہے۱ قربانی کے لیے ناقص جانور ایک شخص نے حضرت سے دریافت کیا کہ اگر جانور مطابق علامات مذکورہ در حدیث نہ ملے تو کیا نا قص کو ذبح کر سکتے ہیں ؟ فرمایا۔مجبوری کے وقت تو جائز ہے مگر آج کل ایسی مجبوری کیا ہے؟ انسان تلاش کر سکتا ہے ۱نوٹ از ایڈیٹر بدر۔مولوی صاحب کی تحقیق یہ ہے کہ دو سال سے کم کا بکرا قربانی کے لیے اہلِ حدیث کے نزدیک جائز نہیں۔