ملفوظات (جلد 10) — Page 84
اسلا م کا خدا خد ا تعالیٰ کا شکر ہے کہ قرآن شریف نے ایسا خدا پیش نہیں کیا جو ایسی نا قص صفات والا ہو کہ نہ وہ روحوں کا مالک ہے نہ ذرّات کا مالک ہے نہ اُن کو نجات دے سکتا ہے نہ کسی کی توبہ قبول کر سکتا ہے بلکہ ہم قرآن شریف کے رو اس خدا کے بندے ہیں جو ہمارا خالق ہے۔ہمارا مالک ہے۔ہمارا رازق ہے۔رحمان ہے۔رحیم ہے۔مالک یوم الدین ہے۔مومنوں کے واسطے یہ شکر کا مقام ہے کہ اس نے ہم کو ایسی کتاب عطا کی جو اس کے صحیح صفات کو ظاہر کرتی ہے۔یہ خدا تعالیٰ کی ایک بڑی نعمت ہے۔افسوس ہے ان پر جنہوں نے اس نعمت کی قدر نہ کی۔ان مسلمانوں پر بھی افسوس ہے جن کے سامنے عمدہ کھانا اور ٹھنڈ ا پانی رکھا گیا ہے لیکن وہ پیٹھ دے کر بیٹھ گئے اور اس کھانے کو نہیں کھاتے۔زمانے کے مصائب سے بچانے کے واسطے ان کے لیے ایک وسیع محل تیار کیا گیا جس میں ہزاروں آدمی داخل ہو سکتے ہیں مگر افسوس اُن پر کہ وہ خود بھی داخل نہ ہوئے اور دوسروں کو بھی داخل ہونے سے روک دیا۔یہ نفخ صور کا وقت ہے کیا پہلے سے نہیں کہا گیا تھا کہ آخری زمانہ میں ایک قرناء آسمان سے پھونکی جائے گی۔کیا وحی خدا کی آواز نہیں۔انبیاء جو آتے ہیں وہ قرناء کا حکم رکھتے ہیں۔نفخ صور سے یہی مراد تھی کہ اس وقت ایک مامور کو بھیجا جائے گا۔وہ سناوے گا کہ اب تمہار اوقت آگیا ہے کون کسی کو درست کر سکتا ہے جب تک کہ خدا درست نہ کرے۔اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو ایک قوت جاذبہ عطا کرتا ہے کہ لوگوں کے دل اس کی طرف مائل ہوتے چلے جاتے ہیں۔خدا کے کام کبھی حبط نہیں جاتے۔ایک قدرتی کشش کام کر دکھائے گی اب وہ وقت آگیا ہے جس کی خبر تمام انبیاء ابتدا سے دیتے چلے آئے ہیں۔خدا تعالیٰ کے فیصلہ کا وقت قریب ہے اس سے ڈرو اور توبہ کرو۔۱ بدر جلد ۷ نمبر ۲ مورخہ ۱۶؍جنوری ۱۹۰۸ء صفحہ ۴تا۹ و الحکم جلد ۱۲ نمبر ۵ مورخہ ۱۸؍جنوری ۱۹۰۸ء صفحہ ۳ تا ۶