ملفوظات (جلد 10) — Page 79
راہ میں کو شش کرتے ہیں وہ آخر ان کو کامیابی کا منہ دکھا دیتا ہے۔بڑا درجہ انسان کا اسی میں ہے کہ وہ اپنے شیطان کو ہلاک کرے۔اپنے خوابوں اور الہامات پر نا ز نہ کرو ایسے ضروری کام کو چھوڑ کر جو مومن کا اصل منشا ہے بعض لوگ اور باتوں کے پیچھے پڑ جاتے ہیں۔مثلاً کسی کو ایک خواب آجائے یا چند الفاظ زبان پر جاری ہو جائیں تو وہ سمجھتا ہے کہ میں اب ولی ہو گیا ہوں۔یہی نکتہ ہے جس پر انسان دھوکہ کھا تا ہے۔خواب تو چوہڑوں، چماروں او ر کنجروں کو بھی آجا تے ہیں اور سچے بھی ہو جاتے ہیں۔ایسی چیز پر فخر کرنا تو لعنت ہے۔فرض کرو کہ ایک شخص کو چند خوابیں آگئی ہیں اور وہ سچی بھی ہو گئی ہیں مگر اس سے کیا بنتا ہے ؟ کیا سخت پیاس کے وقت ایک شخص کو دو چار قطرے پانی کے پلائے جاویں تو وہ بچ جائے گا ؟ ہر گز نہیں بلکہ اس کی تپش اور بھی بڑھے گی۔ایسا ہی جب تک کہ کسی انسان کو پوری مقدار معرفت کی اپنی کیفیت اور کثرت کے سا تھ حا صل نہ ہو تب تک یہ خوابیں کچھ شَے نہیں۔انسان کی عمدہ اور قابل تشفّی وہ حالت ہے کہ وہ عملی رنگ میں درست اور صاف ہو۔اس کی عملی حالت خود اس پر گواہی دے۔خدا تعالیٰ کے برکات اور زبردست خوارق اس کے سا تھ ہوں اور ہر دم اس کی تا ئید کرتے ہوں تب خدا اس کے ساتھ ہے اور وہ خدا کے سا تھ ہے۔ہر ایک بات میں شیطان ایک موقع نکال لیتا ہے کہ لوگوں کو کسی طرح سے بہکائے۔چونکہ ہم بار بار اپنی وحی اور الہام پیش کرتے ہیں اس واسطے بعض لوگوں کو یہ خیال ہوا کہ ہم بھی ایسا ہی کریں۔یہ ایک ابتلا ہے جو اُن پر وارد ہوا اور اس ہلاکت کی راہ میں شیطان نے اُن کی امداد کی اور ان کو شیطانی القا اور حدیث نفس شروع ہوا۔چراغ دین، الٰہی بخش، فقیر مرزا اور دوسرے بہت سے اس راہ میں ہلاک ہو گئے اور ہنوز بہت سے ایسے ہیں جن کا قدم اسی راہ پر ہے۔ہماری جماعت کے آدمیوں کو چاہیے کہ ایسی باتوں سے دل ہٹا لیں۔قیامت کے دن خدا تعالیٰ اُن سے یہ نہیں پوچھے گا کہ تم کو کس قدر الہام ہوئے تھے یا کتنی خوابیں آئی تھیں بلکہ عمل صالح کے متعلق سوال ہو گا کہ کس قدر نیک عمل تم نے کئے ہیں۔الہام وحی تو خدا تعالیٰ کا فعل ہے کوئی انسانی عمل نہیں۔