ملفوظات (جلد 10) — Page 77
ملفوظات حضرت مسیح موعود جلد دہم دین کی جڑ اس میں ہے کہ ہر امر میں خدا تعالیٰ کو مقدم ہر آمر میں خدا تعالیٰ کو مقدم رکھو رکھو دراصل ہم تو خدا کے ہیں اورخدا ہمارا ہے اور ک اور کسی سے ہم کو کیا غرض ہے؟ ایک نہیں کروڑ اولا د مر جائے پر خدا راضی رہے تو کوئی غم کی بات نہیں ۔ اگر اولا د زندہ بھی رہے تو بغیر خدا کے فضل کے وہ بھی موجب ابتلا ہو جاتی ہے۔ بعض آدمی اولاد کی وجہ سے جیل خانوں میں جاتے ہیں ۔ شیخ سعدی علیہ الرحمۃ نے ایک شخص کا قصہ لکھا ہے کہ وہ اولاد کی شرارت کے سبب پابہ زنجیر تھا۔ اولاد کو مہمان سمجھنا چاہیے اس کی خاطر داری کرنی چاہیے۔ اس کی دلجوئی کرنی چاہیے۔ مگر خدا تعالیٰ پر کسی کو مقدم نہیں کرنا چاہیے اولا د کیا بناسکتی ہے؟ خدا کی رضا ضروری ہے۔ جن لوگوں کو خدا کی طرف پورا التفات نہیں ہوتا نماز میں وساوس پیدا ہونے کی وجہ انہیں کو نماز میں بہت وساوس آتے ہیں۔ دیکھو! ایک قیدی جب کہ ایک حاکم کے سامنے کھڑا ہوتا ہے تو کیا اس وقت اس کے دل میں کوئی وسوسہ گذر جاتا ہے؟ ہر گز نہیں ۔ وہ ہمہ تن حاکم کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور اس فکر میں ہوتا ہے کہ ابھی حاکم کیا حکم سناتا ہے؟ اس وقت تو وہ اپنے وجود سے بھی بالکل بے خبر ہوتا ہے۔ ایسا ہی جب صدق دل سے انسان خدا کی طرف رجوع کرے اور سچے دل سے اس کے آستانہ پر گرے تو پھر کیا مجال ہے کہ شیطان وساوس ڈال سکے۔ شیطان انسان کا پورا دشمن ہے قرآن شریف میں اس کا نام عدو رکھا گیا ہے۔ اس نے اوّل تمہارے باپ کو نکالا ۔ پھر وہ اس پر خوش نہیں اب اس کا یہ ارادہ ہے کہ تم سب کو دوزخ میں ڈال دے۔ یہ دوسرا حملہ پہلے سے بھی زیادہ سخت ہے۔ وہ ابتدا سے بدی کرتا چلا آیا میر ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ تم پر غالب آوے لیکن جب تک کہ تم ہر بات میں خدا تعالیٰ کو مقدم رکھو گے وہ ہر گز تم پر غالب نہ آسکے گا۔ جب انسان خدا کے راہ میں دکھ اُٹھاتا ہے اور شیطان سے مغلوب نہیں ہوتا تب اس کو ایک نور ملتا ہے۔ جب کہ ایک مومن سب باتوں پر خدا تعالیٰ کو مقدم کر لیتا ہے شہاب ثاقب کی حقیقت جب اس کا خدا کی طرف رفع ہوتا ہے۔ وہ ای زندگی میں