ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 76 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 76

ذکر ہے کہ اس کا بچہ مَر گیا تھا اور وہ قبر پر کھڑی سیاپا کر رہی تھی۔آنحضرتؐوہاں سے گذرے آپ نے اُسے فرمایا تو خدا سے ڈر اور صبر کر۔اس کمبخت نے جواب دیا کہ تو جا تجھ پر میرے جیسی مصیبت نہیں پڑی۔بد بخت نہیں جانتی تھی کہ آپ تو گیارہ بچوں کے فوت ہونے پر بھی صبر کرنے والے ہیں۔جب اس کو بعد میں معلوم ہوا کہ اس کو نصیحت کرنے والے خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تھے تو پھر آپ کے گھر میں آئی اور کہنے لگی کہ یا رسول! میں صبر کرتی ہوں۔آپ نے فرمایا کہ اَلصَّبْرُ عِنْدَ الصَّدَمَۃِ الْاُوْلٰی صبر وہ ہے جو پہلے ہی مصیبت پر کیا جائے۔غرض بعد میں خود وقت گذرنے پر رفتہ رفتہ صبر کرنا ہی پڑتا ہے صبر وہ ہے جو ابتدا ہی میں انسان اللہ تعالیٰ کی خا طر صبر کرے۔خدا تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ وہ صبر کرنے والوں کو بے حساب اجر دیتا ہے۔یہ بے حساب اجر کا وعدہ صبر کرنے والوں کے واسطے ہی مقرر ہے۔دعا اور استغفار میں مصروف رہو کسی کو کیا خبر ہے کہ آج کیا ہے اور کل کیا ہونے والا ہے؟ ابھی ہمارے پاس کئی خط راولپنڈی سے آئے ہیں جن میں لکھا ہے کہ ایک ایسا زلزلہ آیا کہ لوگ چیخ اُٹھے بلکہ بعض نے کہا کہ یہ زلزلہ ۴؍اپریل والے زلزلے کے برابر تھا۔دیکھو! اس ایک مہینہ میں تین بار زلزلہ آچکا ہے اور آگے ایک سخت زلزلہ کے آنے کی خبر خدا تعالیٰ دے چکا ہے۔وہ زلزلہ ایسا سخت ہو گا کہ لوگوں کو دیوانہ کر دے گا لوگوں نے غفلت کر کے خدا کو بھلا دیا ہے اور خوشی میں بیٹھے ہیں مگر جن لوگوں نے خدا کو پا لیا ہے وہ تلخ زندگی کو قبول کرنے کے واسطے تیار ہیں۔مصائب کا آنا ضروری ہے۔خدا کی سنّت ٹل نہیں سکتی۔ہر ایک کو چاہیے کہ خدا سے دعا اور استغفار میں مصروف رہے اور خدا تعالیٰ کی رضا کے ساتھ اپنی رضا کو ملائے۔جو شخص پہلے سے فیصلہ کر لیتا ہے ٹھوکر نہیں کھاتا۔مال، اولاد، بیوی، بھائیوں سے پہلے ہی سمجھ لے کہ میرا ان سے کوئی تعلق نہیں۔سب امانت خدا وند ی ہیں۔جب تک ہیں ان کی قدر، عزت، خاطر خدمت کرو۔جب خدا اپنی امانت کو واپس لے لے تو پھر رنج نہ کرو۔