ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 71 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 71

ملفوظات حضرت مسیح موعود ال جلد دہم کر لیتے ہیں۔ غرض ان تکالیف شرعیہ میں کچھ نہ کچھ آرام کی صورت ساتھ ساتھ انسان نکالتا رہتا ہے۔ اس واسطے اس سے پورے طور پر صفائی نہیں ہوتی اور منازل سلوک جلدی سے طے نہیں ہو سکتے ۔ لیکن سماوی تکالیف جو آسمان سے اُترتی ہیں اُن میں انسان کا اختیار نہیں ہوتا سے تکالیف سماوی اور بہر حال برداشت کرنی پڑتی ہیں ۔ اس واسطے ان کے ذریعہ سے انسان کو خدا تعالیٰ کا قرب حاصل ہوتا ہے۔ ۔ ہر دو قسم کی تکلیف شرعی اور سماوی کا ذکر اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں ( کیا ہے ) ۔ (1) تکالیف شرعی کے متعلق پہلے سیپارہ میں فرمایا ہے الم ذَلِكَ الْكِتَبُ لَا رَيْبَ فِيهِ هُدًى لِلْمُتَّقِينَ (البقرة : ۲ ، ۳) یعنی مومن وہ ہے جو خدا تعالیٰ پر غیب سے ایمان لاتے ہیں ۔ اپنی نماز کو کھڑا کرتے ہیں یعنی صد با وساوس آکر دل کو اور طرف پھیر دیتے ہیں مگر وہ بار بار خدا کی طرف توجہ کر کے اپنی نماز کو جو بہ سبب وساوس کے گرتی رہتی ہے بار بار کھڑا کرتے رہتے ہیں ۔ خدا تعالیٰ کے دیئے ہوئے مال میں سے خرچ کرتے ہیں۔ یہ تکالیف شرعیہ ہیں ۔ مگر ان پر پورے طور سے بھروسہ حصول ثواب کا نہیں ہو سکتا کیونکہ بہت سی باتوں میں انسان غفلت کرتا ہے اکثر نماز کی حقیقت اور مغز سے بے خبر ہو کر صرف پوست کو ادا کرتا ہے۔ (۲) اس واسطے انسانی مدارج کی ترقی کے واسطے سماوی تکالیف بھی رکھی گئی ہیں ان کا ذکر بھی خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں کیا ہے۔ جہاں فرمایا ہے وَلَنَبْلُوَنَّكُمُ بِشَيْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِنَ الْأَمْوَالِ وَ الْأَنْفُسِ وَالثَّمَرَاتِ وَبَشِّرِ الصَّبِرِينَ الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُمْ مُّصِيبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ أُولَئِكَ عَلَيْهِمْ صَلَاتٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ رَحْمَةٌ وَ أُولَئِكَ هُمُ الْمُهْتَدُونَ ( البقرة : ۱۵۶ تا ۱۵۸) یہ وہ مصائب ہیں جو خدا تعالیٰ اپنے ہاتھ سے ڈالتا ہے یہ ایک آزمائش ہے جس میں کبھی تو انسان پر ایک بھارے درجہ کا ڈر لاحق ہوتا ہے۔ وہ ہر وقت اس خوف میں ہوتا ہے کہ شاید اب معاملہ بالکل بگڑ جائے گا۔ کبھی فقر وفاقہ شامل حال ہو جاتا ہے۔ ہر ایک امر میں انسان کا گزارہ بہت تنگی سے ہونے لگتا ہے۔ کبھی مال میں نقصان نمودار ہوتا ہے۔ تجارت اور دکانداری