ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 69 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 69

۲۸؍دسمبر ۱۹۰۷ء حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰ ۃ والسلام کی دوسری تقریر جو آپ نے جلسہ سالانہ کے موقع پر۲۸ ؍دسمبر ۱۹۰۷ء کو یوم شنبہ کے بعد جمع نماز ظہر وعصر مسجد اقصیٰ میں فرمائی۔جو کچھ کل میں نے تقریر کی تھی اس کا کچھ حصہ باقی رہ گیا تھا کیونکہ بسبب علالت طبع تقریر ختم نہ ہو سکی۔اس واسطے آج پھر میں تقریر کرتا ہوں۔زندگی کا کچھ اعتبار نہیں۔جس قدر لوگ آج اس جگہ موجود ہیں معلوم نہیں ان میں سے کون سا ل آئند ہ تک زندہ رہے گا اور کون مَر جائے گا؟ یہ زمانہ بہت نازک ہے ہمارا فرض ہے کہ ہم ہر طرح سے لوگوں کو سمجھا دیں کہ یہ زمانہ بہت نا زک ہے خدا تعالیٰ نے اس قدر بار بار مجھے آئندہ اور بھی خطر ناک زمانہ کے آنے کے متعلق وحی کی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ قیامت قریب ہے اور وہ جلد آنے والی ہے جیساکہ کل بیان کیا گیا تھا۔طرح طرح کے لباسوں میں موتیں وارد ہو رہی ہیں۔طاعون ہے وبائیں ہیں قحط ہے زلزلے ہیں۔جب ایسی مصیبتیں وارد ہوتی ہیں تو دنیا داروں کی عقل جاتی رہتی ہے اور وہ ایک سخت غم اور مصیبت میں گرفتا ر ہو جاتے ہیں جس سے نکلنے کا کوئی طریق ان کو نہیں سوجھتا۔قرآن شریف میں اسی کی طرف اشارہ ہے وَ تَرَى النَّاسَ سُكٰرٰى وَ مَا هُمْ بِسُكٰرٰى(الـحج:۳) تو لوگوں کو دیکھتاہے کہ نشے میں ہیں حالانکہ وہ کسی نشے میں نہیں بلکہ بات یہ ہے کہ نہایت درجہ کے غم اور خوف سے ان کی عقل ماری گئی ہے اور کچھ حوصلہ باقی نہیں رہا ایسے موقع پر بجز متقی کے کسی کے اندر صبر کی طا قت نہیں رہتی۔دینی امور میں بجز تقویٰ کے کسی کو صبر حا صل نہیں ہوسکتا۔بَلا کے آنے کے وقت سوائے اس کے کون صبر کر سکتا ہے؟ جو خدا کی رضا کے سا تھ اپنی رضا کو ملائے ہوئے ہو جب تک کہ پہلے ایمان پختہ نہ ہو۔ادنیٰ نقصان سے انسان ٹھوکر کھا کر دہریہ بن جاتا ہے جس کو خدا کے سا تھ تعلق نہیں اس میں مصیبت کی برداشت نہیں۔