ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 68 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 68

وہ گورنمنٹ کے حکم سے سرکاری پروانہ لے کر زمینداروں کے پاس جاتا ہے۔اگر زمیندار یہ خیال کرکے کہ یہ ایک پانچ روپیہ کا ملازم ہے اس کو تنگ کریں اور بجائے اس کے حکم کی تعمیل کرنے کے اُلٹا اس کو ماریں پیٹیں اور بد سلوکی سے پیش آویں۔تو اب بتلاؤ کہ کیا گورنمنٹ ایسے شخصوں کو سزا نہ دے گی ؟ دے گی اور ضرور دے گی کیونکہ گورنمنٹ کے چپڑاسی کو بے عزّت اور ذلیل کرنا اصل میں گورنمنٹ کو ہی بے عزت اور ذلیل کرنا ہے اسی طرح جو شخص خدا تعالیٰ کے مامور کی مخالفت کرتا ہے وہ اس کی نہیں بلکہ حقیقت میں وہ خدا کی مخالفت کرتا ہے۔۱ یاد رکھو! خدا اگرچہ سزادینے میں دھیما ہے مگر جو لوگ اپنی شرارتوں سے باز نہیں آتے اور بجائے اس کے کہ اپنے گناہوں کا اقرار کر کے خدا تعالیٰ کے حضور جھک جائیں اُلٹے خدا تعالیٰ کے رسول کو ستاتے اور دکھ دیتے ہیں وہ آخر پکڑے جا تے ہیں اور ضرور پکڑے جا تے ہیں۔دیکھو! دن نہایت نازک آتے جاتے ہیں۔ا س لئے تم لوگوں کو چاہیے کہ خدا تعالیٰ کے حضور سچی توبہ کرو اور تضرّع اور ابتہال کے سا تھ دن رات اس سے دعائیں مانگتے رہو۔خدا تمہیں توفیق دے۔اب دعا کر لو۔اس کے بعد حضرت اقدس علیہ السلام نے بمعہ سامعین نہایت خلوص کے سا تھ دعا کے لئے ہاتھ اُٹھائے اور خدا تعالیٰ سے دعائیں مانگیں۔رَبَّنَاۤ اِنَّنَا سَمِعْنَا مُنَادِيًا يُّنَادِيْ لِلْاِيْمَانِ اَنْ اٰمِنُوْا بِرَبِّكُمْ فَاٰمَنَّا١ۖۗ رَبَّنَا فَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَا وَ كَفِّرْ عَنَّا سَيِّاٰتِنَا وَ تَوَفَّنَا مَعَ الْاَبْرَارِ رَبَّنَا وَ اٰتِنَا مَا وَعَدْتَّنَا عَلٰى رُسُلِكَ وَ لَا تُخْزِنَا يَوْمَ الْقِيٰمَةِ١ؕ اِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِيْعَادَ ( اٰل عـمران :۱۹۴ ،۱۹۵ )۲ ۱ بدر سے۔’’خدا جو سب بادشاہوں کا بادشاہ ہے اور جس کی عظمت اورجس کے جلال کے مقابل میں کسی کا جلال نہیں۔کیا وہ اپنے فرستادہ اپنے رسول کی ہتک دیکھ کر خاموش رہتا ہے؟ ہرگز نہیں۔مامور کی بے ادبی در حقیقت خدا تعالیٰ کی بے ادبی ہے۔‘‘ (بدر جلد ۷ نمبر ۱ مورخہ ۹؍جنوری ۱۹۰۸ء صفحہ ۱۳) ۲الحکم جلد ۱۲ نمبر ۴ مورخہ ۱۴؍جنوری ۱۹۰۸ء صفحہ ۲،۳ وبدر جلد ۷ نمبر ۱ مورخہ ۹؍جنوری ۱۹۰۸ءصفحہ ۲ تا ۱۳