ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 63 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 63

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۶۳ اللہ تعالیٰ اس جماعت کو صحابہ کے رنگ میں رنگین کرنا چاہتا ہے جلد دہم ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو جماعت بنائی تھی ان میں سے ہر ایک زکی نفس تھا اور ہر ایک نے اپنی جان کو دین پر قربان کر دیا ہوا تھا ان میں سے ایک بھی ایسا نہ تھا جو منافقانہ زندگی رکھتا ہو ۔ سب کے سب حقوق اللہ اور حقوق العباد کو ادا کرنے والے تھے سو یا د رکھو اس جماعت کو بھی خدا تعالیٰ انہیں کے نمونہ پر چلانا چاہتا ہے اور صحابہ کے رنگ میں رنگین کرنا چاہتا ہے۔ جو شخص منافقانہ زندگی بسر کرنے والا ہو گا وہ آخر اس جماعت سے کاٹا جائے گا۔ یاد رکھو! یہ خدا کا وعدہ ہے خبیث اور طیب کبھی اکٹھے نہیں رہ سکتے ۔ ابھی وقت ہے کہ اپنی اپنی اصلاح کرلو۔ یاد رکھو! کہ انسان کا دل خدا کے گھر کی مثال ہے۔ خانہء خدا اور خانہء انسان ایک جگہ نہیں رہ سکتا جب تک انسان اپنے دل کو پورے طور پر صاف نہ کرے اور اپنے بھائی کے لئے دکھ اُٹھانے کو تیار نہ ہو جائے تب تک خدا کے ساتھ معاملہ صاف نہیں ہو سکتا اور یہ باتیں میں اس واسطے بیان کرتا ہوں کہ آپ لوگ جو یہاں قادیان میں آئے ہوا ایسا نہ ہو کہ پھر خالی کے خالی ہی واپس چلے جاؤ۔ زندگی کا کچھ اعتبار نہیں معلوم نہیں کہ آئندہ سال تک کون مرے اور کون زندہ تو بہ کی حقیقت رہے گا اس لئے سچے دل سے تو بہ کرنی چاہیے۔ خدا فرماتا ہے یا يُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا تُوبُوا إِلَى اللهِ تَوْبَةً نَصُوحًا (التحریم : 9) سوانسان کو چاہیے کہ اگر تو بہ کرے تو خالص تو بہ کرے۔ تو بہ اصل میں رجوع کو کہتے ہیں ۔ صرف الفاظ ایک قسم کی عادت ہو جاتی ہے۔ اس لئے ا بدر سے۔ اس گھر کو بتوں سے صاف کروتا یہ خدا کا گھر کہلائے ۔ فرمایا طَهِّرَا بَيْتِيَ لِلطَّائِفِينَ وَ الْعَلِفِينَ (البقرۃ:۱۲۶) یعنی میرے گھر کو فرشتوں کے لیے پاک کرو انسان کا دل خدا کا گھر ہے یہ خدا کا گھر اس وقت کہلائے گا اور اس وقت فرشتوں کا طواف گاہ بنے گا جب یہ اوہام باطلہ و عقائد فاسدہ سے بالکل پاک وصاف ہو۔ جب تک انسان کا دل صاف نہ ہو اس کی عملی حالت درست نہیں ہو سکتی ۔ دیکھو! یہ وقت ہے جو کچھ کرنا ہے کر لو۔ ایسا نہ ہو کہ بوجه مخالفت دنیا سے بھی رہے اور دین سے بھی خالی چلے جاؤ۔" ( بدر جلدے نمبر ۱ مورخه ۹ جنوری ۱۹۰۸ء صفحه ۱۲)