ملفوظات (جلد 10) — Page 62
حقو ق کو بھی کما حقہ ادا نہیں کرتے۔بہت سے ایسے ہیں جو آپس میں فساد اور دشمنی رکھتے ہیں اور اپنے سے کمزور اور غریب شخصوں کو نظر حقارت سے دیکھتے ہیں اور بدسلوکی سے پیش آتے ہیں اور ایک دوسرے کی غیبتیں کرتے اور اپنے دلوں میں بغض اور کینہ رکھتے ہیں لیکن خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم آپس میں ایک وجود کی طرح بن جاؤ۔۱ اور جب تم ایک وجود کی طرح ہو جاؤ گے اس وقت کہہ سکیں گے کہ اب تم نے اپنے نفسوں کا تزکیہ کر لیا۔کیونکہ جب تک تمہارا آپس میں معاملہ صاف نہیں ہوگا اس وقت تک خدا تعالیٰ سے بھی معاملہ صاف نہیں ہو سکتا۔۲گو ان دونوں قسموں کے حقوق میں بڑا حق خدا تعالیٰ کا ہے مگر اس کی مخلوق کے سا تھ معاملہ کرنا یہ بطور آئینہ کے ہے۔جو شخص اپنے بھائیوں سے صاف صاف معاملہ نہیں کرتا وہ خدا کے حقوق بھی ادا نہیں کر سکتا۔یاد رکھو! اپنے بھائیوں کے سا تھ بکلی صاف ہو جانا یہ آسان کام نہیں بلکہ نہایت مشکل کام ہے۔منافقانہ طور پر آپس میں ملنا جلنا اور بات ہے مگر سچی محبت اور ہمدردی سے پیش آنا اور چیز ہے۔یادرکھو! اگر اس جماعت میں سچی ہمدردی نہ ہوگی تو پھر یہ تباہ ہو جائے گی اور خدا اس کی جگہ کوئی اور جماعت پیدا کر لے گا۔۳ الحکم جلد ۱۲ نمبر ۳ مورخہ ۱۰؍جنوری ۱۹۰۸ء صفحہ ۲ تا ۵ ۲ بدر سے۔’’تزکیہ نفس اسے کہتے ہیں کہ خالق و مخلوق دونو طرف کے حقوق کی رعایت کرنے والا ہو۔‘‘ (بدر جلد ۷ نمبر ۱ مورخہ ۹؍جنوری ۱۹۰۸ء صفحہ ۱۲) ۳ بدر سے۔’’پس خدا چاہتا ہے کہ جب تک تم ایک وجود کی طرح بھائی بھائی نہ بن جاؤ گے اور آپس میں بمنزلہ اعضا نہ ہو جاؤ گے تو فلاح نہ پاؤ گے۔انسان کا جب بھائیوں سے معاملہ صاف نہیں تو خدا سے بھی نہیں۔بیشک خدا کا حق بڑا ہے مگر اس بات کو پہچاننے کا آئینہ کہ خدا کا حق ادا کیا جارہا ہے یہ ہے کہ مخلوق کا حق بھی ادا کر رہا ہے یا نہیں؟ جو شخص اپنے بھائیوں سے معاملہ صاف نہیں رکھ سکتا وہ خدا سے بھی صاف نہیں رکھتا۔یہ بات سہل نہیں یہ مشکل بات ہے۔سچی محبت اَور چیز ہے اور منافقانہ اَور۔دیکھو! مومن کے مومن پر بڑے حقوق ہیں۔جب وہ بیمار پڑے تو عیادت کو جائے اور جب مَرے تو اس کے جنازہ پر جائے۔ادنیٰ ادنیٰ باتوں پر جھگڑا نہ کرے بلکہ درگذر سے کام لے۔خدا کا یہ منشا نہیں کہ تم ایسے رہو۔اگر سچی اخوت نہیں تو جماعت تباہ ہوجائے گی۔‘‘ (بدر جلد ۷ نمبر ۱ مورخہ ۹؍جنوری ۱۹۰۸ء صفحہ ۱۲)