ملفوظات (جلد 10) — Page 61
صاف شفاف پانی دیا گیا تھا۔مگر وہ روشن تعلیم انہوں نے ضا ئع کر دی اور اپنے پاس کیچڑ اور گند باقی رہنے دیا اور مشرقی قوم سے وہ مسلمان لوگ مراد ہیں جو امام کے سایہ کے نیچے نہیں آئے ۱ اور دھوپ کی شعاعوں سے جھلسے جا رہے ہیں لیکن ہماری جماعت بہت خو ش نصیب ہے۔۲اس کو اللہ تعالیٰ کا بہت شکر ادا کرنا چاہیے کہ اس نے اپنے فضل سے ہدایت عطا فرمائی لیکن یہ ابھی ابتدائی حالت ہے۔جماعت کے لئے ضروری نصائح میں خوب جانتا ہوں کہ ابھی بہت سی کمزوریاں اس میں پائی جاتی ہیں۔اس لئے سمجھنا چاہیے کہ خدا تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے۔قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَكّٰىهَا وَ قَدْ خَابَ مَنْ دَسّٰىهَا(الشّمس:۱۰،۱۱ ) جس کا مطلب یہ ہے کہ نجات پا گیا وہ شخص جس نے اپنے نفس کا تزکیہ کر لیا اور خائب اور خا سر ہو گیا وہ شخص جو اس سے محروم رہا اس لئے اب تم لوگوں کو سمجھنا چاہیے کہ تزکیہ نفس کس کو کہا جاتا ہے۔تزکیہءِ نفس کی حقیقت سو یاد رکھو کہ ایک مسلمان کو حقوق اللہ اور حقوق العباد کو پورا کرنے کے واسطے ہمہ تن تیار رہنا چاہیے اور جیسے زبان سے خدا تعالیٰ کو اس کی ذات اور صفات میں وحدہٗ لا شریک سمجھتا ہے ایسے ہی عملی طور پر اس کو دکھانا چاہیے اور اس کی مخلوق کے ساتھ ہمدردی اور ملائمت سے پیش آنا چاہیے اور اپنے بھائیوں سے کسی قسم کا بھی بغض، حسد اور کینہ نہیں رکھنا چاہیے اور دوسروں کی غیبت کرنے سے بالکل الگ ہو جانا چاہیے لیکن میں دیکھتا ہوں کہ یہ معاملہ تو ابھی دور ہے کہ تم لوگ خدا کے سا تھ ایسے از خودرفتہ اور محو ہو جاؤ کہ بس اُسی کے ہو جاؤ اور جیسے زبان سے اس کا اقرار کرتے ہو عمل سے بھی کر کے دکھاؤ۔ابھی تو تم لوگ مخلوق کے ۱ بدر میں ہے۔’’وہ قرآن مجید سے کچھ فائدہ اٹھانا نہیں جانتے بلکہ جاہلیت میںمَر رہے ہیں۔چنانچہ فرمایا مَنْ مَاتَ وَلَمْ یَعْرِفْ اِمَامَ زَمَانِہٖ فَقَدْ مَاتَ مِیْتَۃً جَاھِلِیَّۃً۔‘‘ (بدر جلد ۷ نمبر ۱ مورخہ ۹؍جنوری ۱۹۰۸ء صفحہ ۱۲) ۲ بدر میں ہے۔’’ تیسری ہماری قوم جو بڑی خوش نصیب ہے۔یہ امام کے سایہ میں آگئے اور چاہا کہ یاجوج ماجوج کے آگے انہیں سَدّ بنا دی جائے۔‘‘ (بدر جلد ۷ نمبر ۱ مورخہ ۹؍جنوری ۱۹۰۸ء صفحہ ۱۲)