ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 61 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 61

ملفوظات حضرت مسیح موعود ٦١ جلد دہم صاف شفاف پانی دیا گیا تھا۔ مگر وہ روشن تعلیم انہوں نے ضائع کر دی اور اپنے پاس کیچڑ اور گند باقی رہنے دیا اور مشرقی قوم سے وہ مسلمان لوگ مراد ہیں جو امام کے سایہ کے نیچے نہیں آئے لے اور دھوپ کی شعاعوں سے جھلسے جا رہے ہیں لیکن ہماری جماعت بہت خوش نصیب ہے۔ سے اس کو اللہ تعالیٰ کا بہت شکر ادا کرنا چاہیے کہ اس نے اپنے فضل سے ہدایت عطا فرمائی لیکن یہ ابھی ابتدائی حالت ہے۔ جماعت کے لئے ضروری نصائح میں خوب جانتا ہوں کہ ابھی بہت سی کمزوریاں اس میں پائی جاتی ہیں۔ اس لئے سمجھنا چاہیے کہ خدا تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے ۔ قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَكَّهَا وَقَدْ خَابَ مَنْ دَسُهَا ( الشَّمس : ۱۱،۱۰) جس کا مطلب یہ ہے کہ نجات پا گیا وہ شخص جس نے اپنے نفس کا تزکیہ کر لیا اور خائب اور خاسر ہو گیا وہ شخص جو اس سے محروم رہا اس لئے اب تم لوگوں کو سمجھنا چاہیے کہ تزکیہ نفس کس کو کہا جاتا ہے۔ سو یا د رکھو کہ ایک مسلمان کو حقوق اللہ اور حقوق العباد کو پورا کرنے تزکیہ نفس کی حقیقت کے واسطے ہمہ تن تیار رہنا چاہیے اور جیسے زبان سے خدا تعالیٰ کو اس کی ذات اور صفات میں وحدہ لاشریک سمجھتا ہے ایسے ہی عملی طور پر اس کو دکھانا چاہیے اور اس کی مخلوق کے ساتھ ہمدردی اور ملائمت سے پیش آنا چاہیے اور اپنے بھائیوں سے کسی قسم کا بھی بغض، حسد اور کینہ نہیں رکھنا چاہیے اور دوسروں کی غیبت کرنے سے بالکل الگ ہو جانا چاہیے لیکن میں دیکھتا ہوں کہ یہ معاملہ تو ابھی دور ہے کہ تم لوگ خدا کے ساتھ ایسے از خود رفتہ اورمحو ہو جاؤ کہ بس اُسی کے ہو جاؤ اور جیسے زبان سے اس کا اقرار کرتے ہو عمل سے بھی کر کے دکھاؤ۔ ابھی تو تم لوگ مخلوق کے 66 لے بدر میں ہے۔ وہ قرآن مجید سے کچھ فائدہ اٹھانا نہیں جانتے بلکہ جاہلیت میں مر رہے ؟ مر رہے ہیں۔ چنانچہ فرمایا من مَاتَ وَلَمْ يَعْرِفُ إِمَامَ زَمَانِهِ فَقَدْ مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً “ ( بدر جلدے نمبر ۱ مورخہ ۹ جنوری ۱۹۰۸ء صفحہ ۱۲) کے بدر میں ہے ۔ ”تیسری ہمارے تیسری ہماری قوم جو بڑی خ جو بڑی خوش نصیب ہے۔ یہ امام کے سایہ میں آگئے اور چاہا کہ یا جوج ماجوج ( بدر جلدے نمبر امورخه ۹ جنوری ۱۹۰۸ ء صفحه (۱۲) کے آگے انہیں سد بنادی جائے ۔“