ملفوظات (جلد 10) — Page 60
اسی قسم کے دھندوں اور بکھیڑوں میں سر گرداں اور مارا مارا پھرتا ہے۔انسان کو چاہیے کہ جتنی جلدی اُس سے ہو سکے خدا سے اپنا تعلق قائم کرے۔جب تک اس کے ساتھ تعلق نہیں ہوتا تب تک کچھ بھی نہیں۔ایک حدیث میں آیا ہے کہ اگر انسان آہستہ آہستہ خدا کی طرف جاتا ہے تو خدا جلدی سے اس کی طرف آتا ہے اور اگر انسان جلدی سے اس کی راہ میں ترقی کرتا ہے تو خدا دوڑ کر اس کی طرف آتا ہے لیکن اگر بندہ خدا (سے) لا پروا بن جائے اور غفلت اور سستی سے کام لے پھر اس کا نتیجہ بھی ویسا ہی ہوتا ہے۔ذوالقرنین سے مراد مسیح موعو د ؑ ہے ایک دفعہ سورہ کہف جس کو ذوالقرنین بھی کہتے ہیں۱ میں دیکھ رہا تھا تو جب میں نے اس قصہ کو غور سے پڑھا تو مجھے معلوم ہو ا کہ اس میں بعینہٖ اسی زمانہ کا حال درج ہے۔جیسے لکھا ہے کہ جب اس نے سفر کیا تو ایسی جگہ پہنچا جہاں کہ اُسے معلوم ہوا کہ سورج کیچڑ میں ڈوب گیا ہے اور یہ اس کا مغربی سفر تھا اور اس کے بعد پھر وہ ایسے لوگوں کے پاس پہنچتا ہے جو دھوپ میں ہیں اور جن پر کوئی سایہ نہیں۔پھر ایک تیسری قوم اُسے ملتی ہے جو یاجو ج ماجوج کے حالات بیان کر کے اس سے حمایت طلب کرتی ہے۔اب مثالی طور پر تو خدا نے یہی بیان کیا ہے لیکن ذو القرنین تو اس کو بھی کہتے ہیں جس نے دو صدیاں پائی ہوں اور ہم نے دو صدیوں کو اس قدر لیا ہے کہ اعتراض کا موقع ہی نہیں رہتا میں نے ہر صدی پر دو صدیوں سے حصہ لیا ہے۔تم حساب کر کے دیکھ لو اور یہ جو قرآن میں قصص پائے جاتے ہیں تو یہ صرف قصہ کہانیاں نہیں بلکہ یہ عظیم الشان پیشگوئیاں ہیں جو شخص ان کو صرف قصے کہانیاں سمجھتا ہے وہ مسلمان نہیں۔غرض اس حساب سے تو مجھے بھی ذوالقرنین ماننا پڑے گا اور ائمہ دین میں سے بھی ایک نے ذوالقرنین سے مسیح مراد لیا ہے۔اب خدا تعالیٰ نے اس قصہ میں مغربی اور مشرقی دو قوموں کا ذکر کیا ہے۔مغربی قوم سے مراد تو وہ لوگ ہیں جن کو انجیل یا دیگر صحیفہ جات کا بدر میں ہے۔’’میں نے ایک مرتبہ ذو القرنین کا حال قرآن مجید میںدیکھا تھا۔تدبّر سے معلوم ہوا کہ جو کچھ اس میں ہے وہ دراصل اسی زمانے کے لیے بطور پیشگوئی ہے۔‘‘ (بدر جلد ۷ نمبر ۱ مورخہ ۹؍جنوری ۱۹۰۸ء صفحہ ۱۱)