ملفوظات (جلد 10) — Page 53
بعد زندگی حا صل ہوتی ہے جیسا کہ پنچابی میں ایک شعر ہے۔؎ جو منگن جائے سو مَر رہے جو مَرے سو منگن جا۱ دعا میں ایک مقنا طیسی اثر ہوتا ہے وہ فیض اور فضل کو اپنی طرف کھینچتی ہے۔یہ کیا دعا ہے کہ منہ سے تو اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْمَ کہتے رہے اور دل میں خیال رہا کہ فلاں سودا اس طرح کرنا ہے۔فلاں چیز رہ گئی ہے۔یہ کام یوں چاہیے تھا اگر اس طرح ہو جائے تو پھر یوں کریں گے۔یہ تو صرف عمر کا ضا ئع کرنا ہے۔جب تک انسان کتا ب اللہ کو مقدم نہیں کرتا اور اسی کے مطابق عملدر آمد نہیں کرتا تب تک اس کی نمازیں محض وقت کا ضا ئع کرنا ہے۔دعا کے لوازمات اور نتائج قرآن مجید میں تو صاف طور پر لکھا ہےقَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِيْنَ هُمْ فِيْ صَلَاتِهِمْ خٰشِعُوْنَ (المؤمنون : ۲،۳ ) یعنی جب دعا کرتے کرتے انسان کا دل پگھل جائے او ر آستانہءِ الوہیت پر ایسے خلوص اور صدق سے گر جاوے کہ بس اسی میں محو ہو جاوے اور سب خیالات کو مٹا کر اسی سے فیض اور استعانت طلب کرے اور ایسی یکسوئی حا صل ہو جائے کہ ایک قسم کی رقّت اور گداز پید ا ہو جاوے تب فلاح کا دروازہ کھل جاتا ہے جس سے دنیا کی محبت ٹھنڈی ہو جاتی ہے۔کیونکہ دو محبتیں ایک جگہ جمع نہیں رہ سکتیں۔جیسے لکھا ہے۔؎ ہم خدا خواہی و ہم دنیائے دوں ایں خیال است و محال است و جنون اسی لیے اس کے بعد ہی خدا فرماتا ہےوَ الَّذِيْنَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُوْنَ (المؤمنون : ۴ ) یہاں لغو سے مراد دنیا ہے یعنی جب انسان کو نمازوں میں خشوع اور خضوع حا صل ہونے لگ جاتا ہے تو پھر اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ دنیا کی محبت اس کے دل سے ٹھنڈی ہو جاتی ہے۔ا س سے یہ مراد نہیں ہے کہ پھر وہ کاشتکار ی، تجارت، نوکری وغیرہ چھوڑ دیتا ہے بلکہ وہ دنیا کے ایسے کاموں سے جو دھوکہ دینے والے ۱ بدر میں ہے ’’جو منگے سو مَر رہے جو مَرے سو منگن جا‘‘ (بدر جلد ۷نمبر ۱مورخہ ۹؍جنوری ۱۹۰۸ء صفحہ ۱۰)