ملفوظات (جلد 10) — Page 38
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۸ جلد دہم آئے گا جب کہ وہ فسق و فجور میں حد سے بڑھ جاویں گے اور جن کاموں سے ان قوموں پر خدا کا غضب بھڑکا تھا ویسے ہی کام مسلمان بھی کریں گے اور خدا کا غضب اُن پر نازل ہوگا۔ تفسیروں اور احادیث والوں نے مغضوب سے یہود مراد لیے ہیں کیونکہ یہود نے خدا تعالیٰ کے انبیاء کے ساتھ بہت ہنسی ٹھٹھا کیا تھا اور حضرت عیسی علیہ السلام کو خاص طور پر دُکھ دیا تھا اور نہایت درجہ کی شوخیاں اور بے باکیاں انہوں نے دکھائی تھیں جن کا آخری نتیجہ یہ ہوا تھا کہ اسی دنیا میں ہی خدا کا غضب ان پر نازل ہوا تھا۔ مگر اس جگہ خدا کے غضب سے کوئی یہ نہ سمجھ لے کہ خدا تعالیٰ کے غضب کی حقیقت (معاذ اللہ) خدا پڑ جاتا ہے بلکہ اسکا یہ مطلب ہے چڑ کہ انسان بسبب اپنے گناہوں کے نہایت درجہ کے پاک اور قدوس خدا سے دور ہو جاتا ہے یا مثال کے طور پر یوں سمجھ لو کہ ایک شخص کسی ایسے حجرہ میں بیٹھا ہوا ہو جس کے چار دروازے ہوں اگر وہ ان دروازوں کو کھولے گا تو دھوپ اور آفتاب کی روشنی اندر آتی رہے گی اور اگر وہ سب دروازے بند کر دے گا تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ روشنی کا آنا بند ہو جائے گا۔ غرض یہ بات سچی ہے کہ جب انسان کوئی فعل کرتا ہے تو سنت اللہ اسی طرح سے ہے کہ اس فعل پر ایک فعل خدا کی طرف سے سرزد ہوتا ہے۔ جیسے اس شخص نے اپنی بدقسمتی سے جب چاروں دروازے بند کر دیئے تھے تو اس پر خدا کا فعل یہ تھا کہ اس مکان میں اندھیرا ہی اندھیرا ہو گیا ۔ غرض اس اندھیرا کرنے کا نام خدا کا غضب ہے۔ یہ مت سمجھو کہ خدا کا غضب بھی اسی طرح کا ہوتا ہے کہ جس طرح سے کہ انسان کا غضب ہوتا ہے کیونکہ خدا خدا ہے اور انسان انسان ہے۔ یہ تو نہیں ہو سکتا کہ جس طرح سے ایک انسان کام کرتا ہے خدا بھی اسی طرح سے ہی کرتا ہے مثلاً خدا سنتا ہے تو کیا اس کو سننے کے لئے انسان کی طرح ہوا کی ضرورت ہے اور کیا اس کا سننا بھی انسان کی طرح سے ہے کہ جس طرف ہوا کا رخ زیادہ ہوا اُس طرف کی آواز کو زیادہ سن لیا۔ یا مثلاً دیکھنا ہے کہ جب تک سورج چاند چراغ وغیرہ کی روشنی نہ ہو انسان دیکھ نہیں سکتا تو کیا خدا بھی روشنیوں کا محتاج ہے؟ غرض انسان کا دیکھنا اور رنگ کا ہے اور خدا کا