ملفوظات (جلد 10) — Page 36
اسلام کا قدوس اور قادر خدا لیکن اسلام کا خدا ایسا قدوس اور قادر خدا ہے کہ اگر تمام دنیا مل کر اس میںکوئی نقص نکالنا چاہے تو نہیں نکال سکتی۔ہمارا خدا تمام جہانوں کا پیدا کرنے والا خدا ہے۔وہ ہر ایک نقص اورعیب سے مبّرا ہے کیونکہ جس میں کوئی نقص ہو وہ خدا کیوں کر ہو سکتا ہے اور اس سے ہم دعائیں کس طرح مانگ سکتے ہیں اور اس پر اُمیدیں کیا رکھ سکتے ہیں؟ وہ تو خود نا قص ہے نہ کہ کامل۔لیکن اسلام نے وہ قادر اور ہر ایک عیب سے پاک خدا پیش کیا ہے جس سے ہم دعائیں مانگ سکتے ہیں اور بڑی بڑی اُمیدیں پوری کر سکتے ہیں اسی واسطے اس نے اسی سورہ فاتحہ میں دعا سکھائی ہے کہ تم لوگ مجھ سے دعا مانگا کرو اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْمَ صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ یعنی یا الٰہی! ہمیں وہ سیدھی راہ دکھا جو اُن لوگوں کی راہ ہے جن پر تیرے بڑے بڑے فضل اور انعام ہوئے اور یہ دعا اس واسطے سکھائی کہ تا تم لوگ صرف اس بات پر ہی نہ بیٹھ رہو کہ ہم ایمان لے آئے ہیں بلکہ اس طرح سے اعمال بجا لاؤ کہ ان انعاموں کو حاصل کر سکو جو خدا کے مقرب بندوں پر ہوا کرتے ہیں۔رسمی عبادات بعض لوگ مسجدوں میں بھی جاتے ہیں۔نمازیں بھی پڑھتے ہیں اور دوسرے ارکانِ اسلام بھی بجا لاتے ہیں مگر خدا کی نصرت اور مدد ان کے شامل حال نہیں ہوتی اور اُن کے اخلاق اور عادات میں کوئی نمایاں تبدیلی دکھائی نہیں دیتی جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اُن کی عبادتیں بھی رسمی عبادتیں ہیں۔حقیقت کچھ بھی نہیں۔کیونکہ احکام الٰہی کا بجا لانا تو ایک بیج کی طرح ہوتا ہے جس کا اثر روح اور وجود دونوں پر پڑتا ہے۔ایک شخص جو کھیت کی آب پاشی کرتا اور بڑی محنت سے اس میں بیج بوتا ہے اگر ایک دو ماہ تک اس میں انگوری نہ نکلے تو ماننا پڑتا ہے کہ بیج خراب ہے۔یہی حال عبادات کا ہے اگر ایک شخص خدا کو وحدہٗ لا شریک سمجھتا ہے نما زیں پڑھتا ہے روزے رکھتا ہے اور بظاہر نظر احکام الٰہی کو حتی الوسع بجا لاتا ہے لیکن خدا کی طرف سے کوئی خا ص مدد اس کے شاملِ حال نہیں ہوتی تو ماننا پڑتا ہے کہ جو بیج وہ بو رہا ہے وہی خراب ہے۔یہی نمازیں تھیں جن کو پڑھنے سے بہت سے لوگ قطب اور ابدال بن گئے مگر تم کو کیا ہوگیا جو