ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 35 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 35

ذمہ رکھے ہوئے ہوں گے وہ بہر صورت ایک ہی قسم کے ہوں گے۔یہ تو جائز نہیں کہ کسی کو کسی گناہ سے باہر نکال دیا جاوے اور کسی کو کسی گناہ کے سبب سے، لیکن یہ کیسا انصاف ہے کہ باہر نکالتے وقت باوجود ایک ہی قسم کے گناہ ہونے کے کسی کو مرد اور کسی کو عورت اور کسی کو گدھا اور کسی کو بندر بنا دیا۔سورۃ فاتحہ میں مذکور اللہ تعالیٰ کی صفات غرض قصہ کوتاہ اللہ تعالیٰ نے الحمد شریف میں اپنی صفاتِ کاملہ کا بیان کر کے ان تمام مذاہب باطلہ کا ردّ کیا ہے جو عام طور پر دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں۔یہ سورہ جو اُمُّ الکتاب کہلاتی ہے اسی واسطے پانچوں وقت ہر نماز کی ہر رکعت میں پڑھی جاتی ہے کہ اس میں مذہب اسلام کی تعلیم موجو دہے اور قرآن مجید کا ایک قسم کا خلاصہ ہے اللہ تعالیٰ نے اپنی چار صفات بیان کر کے ایک نظارہ دکھانا چاہا ہے اور بتایا ہے کہ اسلام نہایت ہی مبارک مذہب ہے۔جو اس خدا کی طرف رہبری کرتا ہے جو نہ تو عیسائیوں کے خدا کی طرح کسی عورت کے پیٹ سے پیدا ہوا ہے اور نہ ہی وہ ایسا ہے کہ آریوں کے پر میشر کی طرح مکتی دینے پر ہی قادر نہ ہو اور جھوٹے طور پر کہہ دیتا ہے کہ عمل محدود ہیں۔حالانکہ اصل بات یہ ہے کہ اس میں نجات دینے کی طا قت ہی نہیں کیونکہ روحیں تو اس کی بنائی ہوئی نہیں۔جیسے وہ آپ خود بخود ہے ویسے ہی ارواح بھی خو د بخود ہیں۔یہ تو ہوہی نہیں سکتا کہ وہ اَور روحیں پیدا کر لے اس لئے یہ سوچ کر کہ اگر ہمیشہ کے لئے کسی روح کو مکتی دی جاوے تو آہستہ آ ہستہ وہ وقت آجاوے گا کہ تمام روحیں مکتی یافتہ ہو کر میرے قبضہ سے نکل جائیں گی جس سے میرا تمام بنا بنایا کار خانہ درہم برہم ہو جائے گا۔اس لئے وہ بہانہ کے طور پر ایک گناہ ان کے ذمہ رکھ لیتا ہے اور اس دَور کو چلائے جاتا ہے۔۱ ۱بدر سے ’’دنیا میں کوئی خالقیت سے منکر ہے کوئی رحمانیت سے، کوئی رحیمیت سے اور کوئی اس کے مالک یوم الدین ہونے سے۔اس قسم کا تفرقہ تمام مذاہب میں ہے مگر اسلام ہی ایسا پاک مذہب ہے جس نے سب صفاتِ کاملہ کو جمع کر دیا۔‘‘ (بدر جلد ۷ نمبر ۱ مورخہ ۹؍جنوری ۱۹۰۸ء صفحہ ۶)