ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 34 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 34

ایک گناہ کے عوض میں ان رشیوں، منیوں اور مکتی یا فتوں کو گدھوں، بندروں اور سؤروں وغیرہ کی جونوں میں بھیجتا ہے مگر اس پر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہ پرمیشر ان مقدسوں پر ناراض تھا اور جان بوجھ کر اُن کو مکتی خانہ سے باہر نکالنا چاہتا تھا تو پھر پہلے ہی ان کو مکتی خانہ میں کیوں داخل کیا ؟ آخر اُن پر راضی ہی ہوا ہو گا تو داخل کیا تھا۔یہ تو نہیں کہ اندھا دھند ہی مکتی خانہ میں دھکیل دیا تھا لیکن رضا اور گناہ اکٹھے نہیں رہ سکتے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ پر میشر ان پر پہلے ہی راضی نہیں ہوا تھا۔۱ اور اگر راضی تھا تو ماننا پڑے گا کہ اس کو ان کے گناہوں کی خبر نہ تھی کیونکہ جب اُسے خبر ہوئی تھی تب تو اس نے اُن کو مکتی خانہ سے باہر نکال دیا تھا لیکن بعض آریہ اس کا یہ جواب دیا کرتے ہیں کہ ان کو مکتی خانے سے اس واسطے نکالا گیا تھا کہ اُن کے عمل محدود تھے اور چونکہ عمل محدود تھے اس لئے ان کا پھل بھی محدود ہونا چاہیے لیکن ان کو اتنی خبر نہیں کہ ان بیچاروں نے جو پرمیشر کی راہ میں ایسی ایسی سختیاں جھیلی تھیں اور اپنا ہر ایک ذرّہ اس کی راہ میں قربان کر دیا تھا تو وہ اس واسطے نہیں تھا کہ چند دن تک توہمیں مکتی خانہ کی سیر کر الو اور اس کے بعد جس گندی سے گندی جون میں چاہو بھیج دو۔ان کی تو نیتوں کو دیکھنا چاہیے اگر ان کی نیتیں صرف اسی قدر تھیں کہ دو چار برس پرمیشر سے محبت کر کے پھر چھوڑ دیں گے تب تو ایک بات ہے ورنہ اِنَّـمَا الْاَعْـمَالُ بِالنِّیَّاتِ ان مکتی یا فتوں کا کیا قصور ؟ یہ تو پر میشر کا قصور ہے کہ ان کو مار دیا کیونکہ اگر وہ زندہ رہتے تو پر میشر کی محبت کو کبھی نہ چھوڑتے۔انہوں نے تو صرف اسی واسطے پرمیشر کی راہ میں مصائب شدائد برداشت کئے تھے کہ جب تک ہم رہیں گے پرمیشر کے ہو کر رہیں گے ان کو پرمیشر کی بے وفائی کا تو خیال نہ تھا ایک شخص کسی سے بہت محبت رکھتا ہے اور آگے پیچھے اس کی محبت کے گن گاتا پھرتا ہے اگر وہ مَر جائے تو کیا ہم کہہ سکتے ہیں کہ وہ دشمنی بھی ساتھ لے گیا ہے؟ اور پھر اس بات کو بھی سمجھنا چاہیے کہ مکتی خانہ سے باہر نکالنے کے لئے جوگناہ پر میشر نے ان کے بدر سے۔’’جب کوئی شخص کسی سے کہتا ہے میں تجھ پر راضی ہوگیا تو یہ معنے ہوتے ہیں کہ گناہ بھی بخش دیا۔یہ نہیں کہ راضی ہوگیا مگر گناہ نہیں بخشے۔‘‘ (بدر جلد ۷ نمبر ۱ مورخہ ۹؍جنوری ۱۹۰۸ء صفحہ ۶)