ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 397 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 397

آسمان پر خداکے داہنے ہاتھ بیٹھے ہیں اوراس اَمر سے انہوں نے مسیح کی ایک خصوصیت ثابت کرکے اسی کو ان کی خدائی کی ایک زبردست دلیل کے طورپر پیش کیا ہے۔اب ہمیںکوئی بتادے کہ اگر تَوَفّی کے معنے مع جسم عنصری آسمان پر ہی اٹھائے جانے کے ہیں اور اس کے معنے حضرت عیسٰیؑ کے لئے موت کے نہیں ہیں توپھر نصاریٰ کے اس اعتراض کا قرآن نے کہاں جواب دیا ہے؟ یا جس طرح ان کی دلیل اوّل کو ایک نظیر پیش کرکے توڑ اتھا اسی طرح کہیں سے ہمیں یہ بھی نکال کربتائو کہ حضرت مسیحؑ سے پہلے یا پیچھے اور کوئی ایسی بھی نظیرپائی جاتی ہے؟ اوراگر کوئی نظیر نہیں تویاد رکھو کہ اسلام آج بھی گیا اور کل بھی گیا۔نصاریٰ تم کو خود تمہارے اپنے عقید ہ سے ملزم کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ تم خود حضرت عیسٰیؑ کو زندہ اور جسم عنصری سے آسمان پر مانتے ہو حالانکہ تمہارے رسول خاکِ مدینہ میںمدفون ہیں۔اب بتائو !کون افضل ہے عیسٰیؑ یا محمدؐ ! افسوس ہے ان نام کے مسلمانوں پر کہ اپنی ناک کاٹنے کے واسطے آپ ہی دشمن کے ہاتھ میں چُھری دیتے ہیں۔یاد رکھو کہ اگر خدا تعالیٰ کا یہی منشا ہوتا اورقرآن وحدیث میں حقیقتاً یہی اَمر اس نے بیان کیا ہوتا کہ واقع میں حضرت مسیحؑ زندہ ہیں اور وہ مع جسم عنصری آسمان پر بیٹھے ہیں اور یہ عقیدہ بھی حضرت مسیحؑ کے بن باپ کے پیدا ہونے کی طرح خدا کے نزدیک سچا عقیدہ ہوتا تو ضرورتھا کہ اللہ تعالیٰ اس کی بھی کوئی نہ کوئی نظیر پیش کرکے قومِ نصاریٰ کو اس اَمر کے حضرت مسیحؑ کی خدائی کی دلیل پکڑنے سے بند اور لاجواب کردیتا۔مگر خدا تعالیٰ کے اس اَمر کی دلیل پیش نہ کرنے سے صاف عیاں ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ہرگز ہرگز یہ منشا نہیں جو تم محض افترا سے خدا کے کلام پر تھوپ رہے۱ ہوبلکہ تَوَفّی کا لفظ خدا تعالیٰ نے محض موت ہی کے معنوں کے واسطے وضع کیا ہے اوریہی حقیقت اوراصل حال ہے۔۱ بدر سے۔’’پس ایسا ہی زندہ آسمان پر موجود ہونے کو عیسائی دلیل ابن اللہ ہونے کی قرار دیتے ہیں اس کی مثال کیوں نہ بیان کی تا عیسیٰ کسی بات میں وحد ہٗ لاشریک نہ ٹھہرے۔تم عیسیٰ کو مَرنے دوکہ اس میں اسلام کی حیات ہے۔ایسا ہی عیسیٰ موسوی کی بجائے عیسیٰ محمد ی آنے دوکہ اس میں اسلام کی عظمت ہے۔میں سچ کہتا ہوں اگر اسلام میں وحی والہام کا سلسلہ نہیں تواسلام مَر گیا۔‘‘ (بدر جلد ۷نمبر ۲۲ مورخہ ۲ ؍جون ۱۹۰۸ء صفحہ ۷)