ملفوظات (جلد 10) — Page 394
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۹۴ جلد دہم حضرت مسیح علیہ السلام کا صلیب پر چڑھایا جانا اس پر حضرت اقدس نے فرمایا۔ خلاف تواتر امور محسوسہ مشہورہ کی پروانہ کر کے ایسی ایک راہ اختیار کرنا جس کی کوئی بھی دلیل نہیں یہ عقل اور ایمان کے سراسر خلاف ہے۔ میں کوئی نئی بات پیش نہیں کرتا اور نہ ہی میں کسی ایسی بے دلیل بات کے منوانے کی کوشش کرتا ہوں جس کا قوی ثبوت اور بین شہادت میرے ہاتھ میں نہیں۔ میرے ساتھ میری شہادت کے واسطے اس وقت لاکھوں انسان موجود ہیں ۔ قوموں کی قومیں اپنی متواتر اور متفقہ شہادت پیش کر رہی ہیں ۔ اگر کسی کو کوئی شک و شبہ ہو تو یہودی موجود ہیں، نصرانی موجود ہیں۔ ان سے پوچھ لو کہ ان کا اس بارہ میں کیا عقیدہ ہے؟ دونوں متخاصم موجود ہیں، ان سے پوچھ لو کہ آیا وہ بھی اس بات کے قائل ہیں جو تم پیش کرتے ہو؟ دیکھو! تو اتر قومی کو بغیر کسی زبر دست دلیل اور حجت نیرہ کے توڑ دینا اور اس کی پروانہ کرنا یہ بڑی بھاری غلطی ہے۔ تعجب کی بات ہے اور یہ کیوں کر ہو سکتا تھا کہ کسی دوسرے آدمی کو پکڑ کر خواہ نخواہ بے قصور شولی پر چڑھا دیا جاوے اور وہ چوں بھی نہ کرے اور دو ہائی بھی نہ دیوے کہ میں تو تمہارا ساتھی ہوں مجھے کیوں بے گناہ سولی پر چڑھاتے ہو؟ تمہارا اصل ملزم تو بچ گیا اور میں جو کہ تمہارا ہی ساتھی ہوں یہ میرا نام فلا نے ماں باپ کا بیٹا ہوں ۔ یہ میرے رشتہ دار ہیں ۔ مجھے کیوں مارتے ہو؟ جان کا معاملہ اور لعنتی موت کا نشانہ بننا ہے اصل ملزم بچا جاتا ہے ایک بے گناہ، بے قصور ، بے تعلق آدمی سولی چڑھایا جاتا ہے اور پھر تعجب یہ کہ بولتا تک نہیں ۔ یہ بھید تو ہماری سمجھ میں نہیں آتا ۔ علاوہ وحی اور علم غیب کے جو ہمیں خدا نے محض اپنے فضل سے بخشا اور مکالمہ مخاطبہ کا خاص فیضان جاری کر کے ہمیں اس نے ان امور میں حقیقی علم عطا کیا۔ ہمارا ضمیر اس کو ہرگز ہرگز قبول نہیں کرتا کہ اتنا بھاری تو اتر اور کروڑوں انسانوں کی متفقہ شہادت بالکل غلط ہے اور یہ سب جو سمجھے بیٹھے تھے ایک وہم تھا اور خیال غلط ۔ دیکھو ع تا نه باشد چیز کے مردم نه گویند چیزها