ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 393 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 393

(قبل نماز عصر) حضرت اقدس علیہ السلام کی آخری تقریر مولوی ابراہیم صاحب سیالکوٹی نے حضرت اقدس کی خدمت میں بذریعہ اپنے کسی خاص قاصد کے ایک خط بھیجا جس میں بعض مسائل مختلفہ فیہ پر زبانی گفتگو کرنے کی اجازت چاہی اور وعدہ کیا کہ میں بہت نرمی اور پاس ادب سے گفتگو کروں گا۔حضرت اقدسؑ نے قبل عصر حضرت مولٰنا مولوی سید محمد احسن صاحب سے ان کے متعلق دریافت کیا کہ وہ اخلاق کے کیسے ہیں۔مغلوب الغضب اورفوراً جوش میں آجانے والے یا بھڑک اٹھنے والی طبیعت کے تو نہیں ہیں؟ اس کے جواب میں بعض اصحاب نے عرض کیا کہ حضور ایسے تونہیں۔ان کی طبیعت میں نرمی پائی جاتی ہے۔البتہ اگر بعض عوام کا ہجوم ان کے ہمراہ ہوگا تواندیشہ ہے۔حضرت اقدس علیہ السلام خود چونکہ ’’پیغام صلح‘‘ لکھنے میں مصروف تھے اور فرصت نہ تھی۔اس لئے حضرت اقدسؑ نے مولٰنا مولوی سید محمد احسن صاحب سے فرمایا کہ آپ ان کو خط کا جواب لکھ دیں۔اصل خط ان کا ہم بھیج دیں گے اوربے شک نرمی سے اورآہستگی سے ان سے ان مسائل میں گفتگو کریں۔البتہ اس بات کا خیال رکھیں کہ ان کے ہمراہ سوا دوچار معزز اور شریف آدمیوں کے اورزیادہ ہجوم نہ ہواورآپ بھی علیحدگی میں بیٹھ کر گفتگو کریں۔اس میں کوئی حرج کی بات نہیں۔اسی دوران میں کسی دوست نے ان کا یہ عقیدہ پیش کردیا کہ وہ حضرت عیسٰیؑ کے سُولی پر لٹکائے جانے کے ہی قائل نہیں اورکہ وہ اپنے اس دعوے کی دلیل میں آیت کریمہ اِذْ كَفَفْتُ بَنِيْۤ اِسْرَآءِيْلَ عَنْكَ (المآئدۃ :۱۱۱)پیش کرتے ہیں۔