ملفوظات (جلد 10) — Page 32
جن پر تیرا بے انتہا فضل ہوا اور تیرے بڑے بڑے بڑے انعام اکرام ہوئے۔مومن کو چاہیے کہ ان چار صفات والے خدا کا صرف زبانی اقرار ہی نہ کرے بلکہ اپنی ایسی حالت بناوے جس سے معلوم ہو کہ وہ صرف خدا کو ہی اپنا ربّ جانتا ہے۔زید عمر کو نہیں جانتا اور اس بات پر یقین رکھے کہ در حقیقت خدا ہی ایسا ہے جوعملوں کی جزا سزا دیتا ہے اور پوشیدہ سے پوشیدہ اور نہاں در نہاں گناہوں کو جانتا ہے۔۱ عملی حالت کی اہمیت یا د رکھو کہ صرف زبانی باتوں سے کچھ نہیں ہوتا جب تک عملی حالت درست نہ ہو۔جو شخص حقیقی طور پر خدا کو ہی اپنا ربّ اور مالک یوم الدین سمجھتا ہے ممکن ہی نہیں کہ وہ چوری، بدکاری، قمار بازی یا دیگر افعال شنیعہ کا مرتکب ہو سکے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ یہ سب چیزیں ہلاک کر دینے والی ہیں اور ان پر عملدر آمد کرنا خدا تعالیٰ کے حکم کی صریح نافرمانی ہے۔غرض انسان جب تک عملی طور پر ثابت نہ کر دیوے کہ وہ حقیقت میں خدا پر سچا اور پکا ایمان رکھتا ہے تب تک وہ فیوض اور برکا ت حاصل نہیں ہو سکتے جو مقربوں کو ملا کرتے ہیں۔وہ فیوض جو مقربانِ الٰہی اور اہل اللہ پر ہوتے ہیں وہ صرف اسی واسطے ہوتے ہیں کہ ان کی ایمانی اور عملی حالتیں نہایت اعلیٰ درجہ کی ہوتی ہیں اور انہوں نے خدا تعالیٰ کو ہر ایک چیز پر مقدم کیا ہوا ہوتا ہے۔سمجھنا چاہیے کہ اسلام صرف اتنی بات کا ہی نام نہیں ہے کہ انسان زبانی طور پر ورد و ظائف اور ذکر اذکار کرتا رہے بلکہ عملی طور پر اپنے آپ کو اس حد تک پہنچانا چاہیے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے تائید اور نصرت شامل حال ہونے لگے اور انعام واکرام واردہوں۔جس قدر انبیاء اولیاء گذرے ہیں ان کی عملی حالتیں نہایت پاک صاف تھیں اور ان کی راستبازی اور دیا نتداری اعلیٰ پایہ کی تھی اور یہی نہیں کہ جیسے یہ لوگ احکامِ الٰہی بجا لاتے ہیں اور روزے رکھتے اور زکوٰتیں ادا کرتے ہیں۔اور نمازوں میں رکوع سجود کرتے اور سورۃ فاتحہ پڑھتے ہیں وہ بھی پڑھتے تھے اور احکامِ الٰہی بجا لاتے تھے بلکہ ان کی نظر میں تو سب کچھ مُردہ معلوم ہوتا تھا اور ان کے وجودوں پر ایک قسم کی موت طاری ہو گئی تھی۔ان کی آنکھوں کے سامنے تو ایک خدا کا وجود ہی رہ گیا تھا۔اسی کو ہی وہ اپنا کار ساز اور حقیقی ربّ یقین کرتے تھے۔۱الحکم جلد ۱۲ نمبر ۱ مورخہ ۲؍جنوری ۱۹۰۸ء صفحہ ۴تا ۶