ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 32 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 32

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۲ جلد دہم جن پر تیرا بے انتہا فضل ہوا اور تیرے بڑے بڑے بڑے انعام اکرام ہوئے۔مومن کو چاہیے کہ ان چار صفات والے خدا کا صرف زبانی اقرار ہی نہ کرے بلکہ اپنی ایسی حالت بناوے جس سے معلوم ہو کہ وہ صرف خدا کو ہی اپنا رب جانتا ہے۔ زید عمر کو نہیں جانتا اور اس بات پر یقین رکھے کہ در حقیقت خدا ہی ایسا ہے جو عملوں کی جزا سزا دیتا ہے اور پوشیدہ سے پوشیدہ اور نہاں در نہاں گناہوں کو جانتا ہے۔ او یا د رکھو کہ صرف زبانی باتوں سے کچھ نہیں ہوتا جب تک عملی حالت درست عملی حالت کی اہمیت نہ ہو۔ جوشخص حقیقی طور پر خا کوہی اپنا رب اور مالک یوم الدین سمجھتا ہے ممکن ہی نہیں کہ وہ چوری، بدکاری، قمار بازی یا دیگر افعال شنیعہ کا مرتکب ہو سکے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ یہ سب چیزیں ہلاک کر دینے والی ہیں اور ان پر عملدرآمد کرنا خدا تعالیٰ کے حکم کی صریح نافرمانی ہے۔ غرض انسان جب تک عملی طور پر ثابت نہ کر دیوے کہ وہ حقیقت میں خدا پر سچا اور پکا ایمان رکھتا ہے تب تک وہ فیوض اور برکات حاصل نہیں ہو سکتے جو مقربوں کو ملا کرتے ہیں ۔ وہ فیوض جو مقربانِ الہی اور اہل اللہ پر ہوتے ہیں وہ صرف اسی واسطے ہوتے ہیں کہ ان کی ایمانی اور عملی حالتیں نہایت اعلیٰ درجہ کی ہوتی ہیں اور انہوں نے خدا تعالیٰ کو ہر ایک چیز پر مقدم کیا ہوا ہوتا ہے۔ سمجھنا چاہیے کہ اسلام صرف اتنی بات کا ہی نام نہیں ہے کہ انسان زبانی طور پر ورد وظائف اور ذکر اذکار کرتا رہے بلکہ عملی طور پر اپنے آپ کو اس حد تک پہنچانا چاہیے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے تائید اور نصرت شامل حال ہونے لگے اور انعام واکرام وارد ہوں ۔ جس قدرا انبیاء اولیاء گزرے ہیں ان کی عملی حالتیں نہایت پاک صاف تھیں اور ان کی راستبازی اور دیانتداری اعلیٰ پایہ کی تھی اور یہی نہیں کہ جیسے یہ لوگ احکام الہی بجالاتے ہیں اور روزے رکھتے اور زکوتیں ادا کرتے ہیں۔ اور نمازوں میں رکوع سجود کرتے اور سورۃ فاتحہ پڑھتے ہیں وہ بھی پڑھتے تھے اور احکام الہی بجالاتے تھے بلکہ ان کی نظر میں تو سب کچھ مردہ معلوم ہوتا تھا اور ان کے وجودوں پر ایک قسم کی موت طاری ہو گئی تھی۔ ان کی آنکھوں کے سامنے تو ایک خدا کا وجود ہی رہ گیا تھا۔ اسی کو ہی وہ اپنا کارساز اور حقیقی رب یقین کرتے تھے۔ الحکم جلد ۱۲ نمبر ۱ مورخه ۲ جنوری ۱۹۰۸ء صفحه ۴ تا ۶