ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 391 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 391

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۹۱ جلد دہم ۲۵ رمئی ۱۹۰۸ء ( بمقام لاہور ۔ بوقتِ ظہر ) (وفات سے قریباً ۲۰ گھنے پہلے کی تقریر ) ۔ نبوت کی حقیقت ایک شخص سرحدی آیا۔ بہت شوخی سے کلام کرنے لگا۔ اس پر فرمایا۔ میں نے اپنی طرف سے کوئی اپنا کلمہ نہیں بنایا۔ نہ نماز علیحدہ بنائی ہے بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کو دین و ایمان سمجھتا ہوں ۔ یہ نبوت کا لفظ جو اختیار کیا گیا ہے صرف خدا کی طرف سے ہے۔ جس شخص پر پیشگوئی کے طور پر خدا تعالیٰ کی طرف سے کسی بات کا اظہار بکثرت ہوا سے نبی کہا جاتا ہے۔ خدا کا وجود خدا کے نشانوں کے ساتھ پہچانا جاتا ہے۔ اسی لئے اولیاء اللہ بھیجے جاتے ہیں مثنوی میں لکھا ہے ع آل نبی وقت باشد اے مرید محی الدین ابن عربی نے بھی ایسا ہی لکھا ہے۔ حضرت مجدد نے بھی یہی عقیدہ ظاہر کیا ہے پس کیا سب کو کافر کہو گے؟ یا درکھو کہ یہ سلسلہ نبوت قیامت تک قائم رہے گا۔ اس پر اس سرحدی نے سوال کیا کہ دین میں کیا نقص رہ گیا تھا جس کی تکمیل کے مجدد کی ضرورت لئے آپ تشریف لائے؟ فرمایا۔ احکام میں کوئی نقص نہیں ۔ نماز ، قبلہ، زکوٰۃ ، کلمہ وہی ہے۔ کچھ مدت کے بعد ان احکام کی بجا آوری میں سستی پڑ جاتی ہے۔ بہت سے لوگ توحید سے غافل ہو جاتے ہیں تو وہ اپنی طرف سے ایک بندے کو مبعوث کرتا ہے جو لوگوں کو از سرِ نو شریعت پر قائم کرتا ہے۔ سو برس تک سستی واقع ہو جاتی ہے۔ ایک لاکھ کے قریب تو مسلمان مرتد ہو چکا ہے۔ ابھی آپ کے نزدیک کسی کی ضرورت نہیں؟ لوگ قرآن چھوڑتے جاتے ہیں سنتِ نبوی سے کچھ غرض نہیں ۔ اپنی رسوم کو اپنا دین قرار دے لیا ہے اور ابھی آپ کے نزدیک کسی کی ضرورت نہیں۔ اس پر اس شخص نے کہا کہ اس وقت تو سب کا فر ہوں گے کوئی تیس چالیس مومن رہ جائیں گے۔ فرمایا۔ کیا مہدی کے ساتھ جو مل کر لڑائی کریں گے وہ سب کا فر ہی ہوں گے۔