ملفوظات (جلد 10) — Page 385
خدا ہے۔پہلے اپنے لیکچر میں بیان کیا کرتا تھا کہ نسل انسانی آہستہ آہستہ ترقی کرکے ادنیٰ حالت سے بندر اور پھر بند رسے ترقی پاکر انسان بنا۔مگر اس دفعہ کے لیکچر میں اس نے صاف اقرارکیا کہ یہ ڈارون کا قول ہے۔اگر چہ اس قابل نہیں کہ اس سے اتفاق کیا جاوے بلکہ انسان اپنی حالت میں خود ہی ترقی کرتا ہے۔غرضیکہ اس پر بہت بڑا اثر ہواہے اوروہ حضو ر کی ملاقات کے بعد ایک نئے خیالات کا انسان بن گیا ہے اور ان خیالات کو جرأت سے بیان کرتا ہے۔پھر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اصل تقریر کی طرف رجوع کیا اورفرمایاکہ ابھی ایسے لمبے سفروں کی چنداں ضرورت نہیں کہ ممالک یورپ اورامریکہ میں جاویں بلکہ ابھی تو خود ہندوستان ہی اس بات کا ازبس محتاج ہے۔؎ تو کار زمیں را نکو ساختی کہ با آسماں نیز پرداختی ان ممالک میں جانا ایسے لوگوں کا کام ہے جو ان کی زبان سے بخوبی واقف ہوں اوران کے طرزِبیان اور خیالات سے خوب آگاہ، سفر کے شدائد اٹھاسکیں اور ان کی صحت کی حالت بھی بہت اچھی ہو۔بصورت موجودہ یہ کام بھی بہت بڑا بھاری ہے کہ چند ایسے آدمی ہوں کہ وہ اسی ملک میں اچھی طرح سے گائوں گائوں پھر کر لوگو ں کو ہماری بعثت کی اطلاع دے دیں۔اسلام کی زندگی کا ثبوت دینے کے لئے مامور کی ضرورت کسی لیکچر کے متعلق ذکرتھا کہ انہوں نے اپنے لیکچر میں بیان کیا کہ’’ اسلام بذریعہ اخلاق کے پھیلا ہے نہ تلوار سے۔جنہوں نے اپنے اخلاق کریمہ کی وجہ سے دنیا میں اسلام کو پھیلایا ہے وغیر ہ۔‘‘ مگر موجودہ زمانہ کے متعلق بجز خاموشی کچھ پیش نہیں کرسکتے۔فرمایا۔تِلْكَ اُمَّةٌ قَدْ خَلَتْ١ۚ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَ لَكُمْ مَّا كَسَبْتُمْ (البقرۃ:۱۳۵) ان اولیاء اور بزرگوں کو اس موجودہ زمانہ سے تعلق ہی کیا؟ وہ اپنے وقت پر آئے اوراپنا کام کرکے چلے گئے۔اب زمانہ موجودہ میں بھی کسی مجدّدیا خادم دین کی ضرورت ہے یا کہ بخیال ان کے یہ زمانہ دجالوں